انوارالعلوم (جلد 22) — Page 483
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۳ چشمہ ہدایت اسی طرح فرماتا ہے وَ أوحي إلي هذا القران لا نَذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَم، كل دیکھو قرآن میری طرف اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعہ تمہیں بھی فائدہ پہنچاؤں اور وہ تمام لوگ جن کے کانوں تک اس کتاب کی آواز پہنچے اُن کو بھی فائدہ پہنچاؤں اور وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔غرض ایک طرف قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں ہر قسم کے مضامین بیان کئے گئے ہیں اور ہر قسم کے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور دوسری طرف اس نے یہ کہا ہے کہ جس کے ہاتھ میں بھی قرآن ہوگا اُس کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ یہ اسی لئے نازل کیا گیا ہے کہ وہ سب لوگ جن کے کانوں تک اس کی آواز پہنچے اُن کو فائدہ پہنچائے۔پس جب قرآن قیامت تک کے لئے ہے اور جب قرآن سب دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے نازل کیا گیا ہے تو یہ کہنا کہ اب نئے معارف اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتے یا خدا سے انسان مل نہیں سکتا دونوں غلط عقیدے ثابت ہوئے۔اسی طرح میں نے بتایا ہے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی کئی آیتیں منسوخ ہیں لیکن جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں یہ آیت نظر آتی ہے کہ هوا الذي انزل عليك الكتب مِنْهُ أَيتَ مُحْكَنتَ هُنَّ أم الكتب وَأَخَرُ متشبهت ۱۸ محکمات اور متشابہات کے کیا معنے ہیں؟ میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا ان کے معنے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھ پر حل کر دیئے ہیں، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضا حنا یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قرآن کریم میں صرف دو قسم کی آیات ہیں کچھ آیات محکم ہیں اور کچھ منشا بہ۔اب کوئی بھی مفسّر ایسا نہیں جو متشابہہ کے معنے منسوخ کے کرتا ہو وہ متشابہہ کے کوئی نہ کوئی معنے کرتا ہے ، مگر یہ نہیں کرتا کہ اس کے معنے منسوخ آیات کے ہیں۔اور جب قرآن کہتا ہے کہ میرے اندر صرف دو ہی قسم کی آیات ہیں یا محکم ہیں یا متشابہ اور متشابہ کے معنے منسوخ کے نہیں تو منسوخ آیات کہاں سے آگئیں؟ یا تو قرآن ہی کہتا کہ میرے اندر بعض آیات منسوخ بھی ہیں مگر وہ تو کہتا ہے کہ اس کتاب میں صرف دو ہی قسم کی آیات ہیں محکمات یا متشابہات اور