انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 482

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۲ چشمہ ہدایت لوگوں کے لئے ہدایت نامہ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب اسی لئے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا سے ملائے جو کتاب بندوں کو خدا سے نہیں ملاتی اُس کتاب کو لے کر ہم نے کرنا کیا ہے اور اگر وہ نہیں ملاتی تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ وہ الٹھی کتاب نہیں۔اب اگر وہ دنیا میں رہے تب بھی بیکار ہے اور اگر نہ رہے تب بھی حرج نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بالکل غلط عقیدہ ہے قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا کر کے اُس کو خدا کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کی جتنی طبعی اور روحانی ضرورتیں ہیں اُن کو پورا کرتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ صَرَّفنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَشَد ! ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر اور چکر دے دے کر اور نئے نئے اُسلوب سے اور نئی نئی طرزوں سے نئی نئی فطرتوں کے لئے مضامین بیان کئے ہیں اور پھر من حل مشد ہر قسم کے مضامین بیان کئے ہیں۔دو ہی چیزیں ہوتی ہیں جو کسی تعلیم کی برتری کو ثابت کرتی ہیں۔ایک یہ کہ ہر قسم کے مضامین اُس میں بیان ہوں اور دوسرے یہ کہ مختلف طبقات میں سے ہر طبقہ کے لیے اُس میں مضامین بیان ہوں اور یہ دونوں خصوصیتیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔گویا کوئی انسان نہیں رہا جو قرآن کا مخاطب نہ ہوا اور کوئی بات نہیں رہی جو قرآن نے بیان نہ کی ہو۔جب ہر بات اس میں بیان کر دی گئی ہے اور ہر قسم کے لوگوں کی فطرت کوملحوظ رکھ کر اُس میں تعلیم نازل کی گئی ہے تو پھر بنی نوع انسان کو اپنے خدا کی محبت اور اس کا پیار کیوں حاصل نہ ہو۔بے شک پرانے زمانہ میں موسی اور عیسی اور دوسرے نبیوں کو خدا ملا اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہمارا دل اس سے تسلی نہیں پاتا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی خدا کی محبت حاصل ہو۔اور زندہ کتاب وہی کہلا سکتی ہے جو زندہ خدا سے ہمارا تعلق پیدا کر دے۔اگر وہ ہمیں اپنے خدا سے نہیں ملاقی تو اس کتاب کا وجود اور عدم ہمارے لئے برابر ہے۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کی روحانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے سامان اس کتاب میں رکھ دیئے ہیں جو بھی سچے دل سے اس پر عمل کرے گا وہ اپنے خدا کو پالے گا۔