انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 478

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۸ چشمہ ہدایت بے حقیقت بن کر رہ گئی اور کس طرح مسلمان سخت ذلت کے ساتھ وہاں سے نکلے کہ ہر شخص بزبانِ حال یہ کہ رہا تھا کہ : - بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے لیکن اگر پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے مقصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے مسلمان کھڑا ہو اور وہ پھر ہندوستان میں داخل ہوتلوار کے زور سے نہیں بلکہ قرآن کے زور سے، بندوق کے زور سے نہیں بلکہ سچائی کے زور سے۔شام لال ہند و عبد اللہ بن جائے ، سندر داس ہند و عبد الرحمن بن جائے ، ویدوں کی جگہ قرآن پڑھا جانے لگے تو آج تو تم اس طرح نکلے ہو کہ وہ تمھیں نکال کر خوش ہوئے ہیں لیکن اگر تم یہ فتح حاصل کر لو اور تم کسی دن اُن سے یہ کہو کہ اب ہمارا کام ہندوستان میں ختم ہو چکا ہے اب ہم چین کو جاتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ اُس دن سارے ہندوستان میں گہرام مچ جائے گا اور ہر شخص رونے لگ جائے گا اور کہے گا خدا کے لئے ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ تم ہمارے لئے خیر اور برکت کا موجب ہو۔یہ چیز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی اور اسی کی قرآن بھی تائید کرتا ہے اور عقل بھی تائید کرتی ہے اور جذبات صحیحہ بھی تائید کرتے ہیں کیونکہ جذبات صحیحہ اس بات کو کبھی تسلم نہیں کرتے کہ کسی کو مکا مار کر اُس سے یہ کہا جائے کہ تو مجھے پیار کر لیکن محبت اور پیار کے ساتھ اسے اپنا غلام بنا لو تو پھر تم اُسے کہو بھی کہ خدمت نہ کرو تو وہ کہے گا مجھے ثواب لینے دیں اپنی خدمت سے محروم کیوں کرتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ سندھ میں جب مجھے گھوڑے پر سورا ہو کر کہیں جانا پڑتا ہے تو ساتھ ساتھ کوئی مخلص احمدی بعض دفعہ عمر کے لحاظ سے بڑھاپے میں قدم رکھ رہا ہوتا ہے وہ دوڑتا چلا جاتا ہے۔اُسے منع بھی کرو تو وہ رکتا نہیں اور ساتھ ساتھ دوڑتا چلا جاتا ہے اور جب میں گھوڑے سے اترتا ہوں تو وہ پیر دبانے لگ جاتا ہے کہ آپ تھک گئے ہوں گے۔اسے بہتیرا کہا جاتا ہے کہ میاں ! میں گھوڑے پر سوار رہا اور تم پیدل چلتے آئے تھکا میں ہوں یا تم ؟ مگر وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے کہ نہیں آپ تھک گئے ہوں گے مجھے پیر