انوارالعلوم (جلد 22) — Page 455
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۵ چشمہ ہدایت پکڑ لینا چنا نچہ ابوسفیان کھڑے ہو گئے۔بعد میں جب وہ اسلام لائے تو اُنہوں نے بتایا کہ کئی جگہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں جھوٹ بولوں لیکن پھر میں رُک جاتا تھا اس خیال سے کہ میرے ساتھی ہی مجھے جھٹلا دیں گے۔اُس نے جو سوال کئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ يَرْتَدُّ اَحَدٌ مِنْهُمْ سُخَطَةً لِدِينِهِ کہ کیا کوئی اس کے دین سے اس طرح بھی مرتد ہوتا ہے کہ خود اس کے دین سے اُس کو نفرت ہو؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُسے نفرت ہو جائے ، صحابیوں سے نفرت ہو جائے ، روپیہ پر جھگڑا ہو جائے، زمین پر جھگڑا ہو جائے اور وہ مرتد ہو جائے تو یہ اور بات ہے۔میرا مطلب یہ ہے کہ جو عقیدہ یہ شخص پیش کرتا ہے۔مثلاً کہتا ہے خدا ایک ہے تو کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو مرتد ہونے کے بعد یہ کہنا شروع کر دے کہ مجھ پر اب ثابت ہو گیا ہے کہ خدا ایک نہیں دو ہیں کیا ایسا بھی کبھی ہوتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا نہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرتد تو ہوئے ہیں۔کئی مرتدین کا تاریخ میں ذکر آتا ہے لیکن دیکھو اُس نے یہ نہیں پوچھا کہ مرتد ہوتے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مرتد تو لوگ ہوتے ہی ہیں۔شیطان خدا سے مرتد ہوا۔پس مرتد ہونا کوئی بات نہیں سُخَطَةً لِدِينِہ اس کے عقیدہ کو غلط سمجھ کر الگ ہونا اصل چیز ہے۔جب اُس نے کہا نہیں تو اُس نے کہا بس میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کی یہ علامت ہوا کرتی ہے۔ان سے لڑائیاں بھی ہو سکتی ہیں، لالچوں کے مارے بھی لوگ اُن سے الگ ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایسی سچائی پیش کرتے ہیں کہ انسان اُس سچائی سے نفرت نہیں کر سکتا ، جس نے ایک دفعہ مانا وہ جہاں جائے اُس عقیدہ کو وہ چھوڑ نہیں سکتا۔ہر قل کا یہ سوال بتاتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ سچے نبی کے ساتھ یہ تین چیزیں ہوتی ہیں۔نقل صحیح ، عقل صحیح اور جذبات صحیحہ۔جب یہ تین چیزیں ہوں تو ایمان میں تزلزل نہیں آسکتا اس لئے وہ جب بھی مرتد ہو گا عقیدہ سے نہیں ہوگا۔یہی چیز ہے جس کو قرآن کریم میں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے کہ ان کا فروں سے کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم میں سے لوگ ہم میں آرہے ہیں اور کو کوئی کوئی ہمارا بھی تم میں