انوارالعلوم (جلد 22) — Page 412
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۱۲ ہجرت مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ملکہ آپ کو پیارا تھا مگر خدا تعالیٰ آپ کو اس سے بھی زیادہ پیارا تھا۔خدا تعالیٰ نے ایک کام آپ کے سپرد کیا تھا وہ کام آپ کی ساری توجہ چاہتا تھا۔مکہ سے زیادہ مکہ اور اُس کے گردونواح کے دلوں کی فتح آپ کے مد نظر تھی۔مکہ کا گردو نواح ہی نہیں بلکہ سارا عرب اور ساری دُنیا چلا چلا کر محمد عربی کو پکار رہی تھی کہ ہمیں شیطان کے پنجہ سے چھڑائیے اور اس کی دست برد سے نجات دلوائیے۔دُنیا کے نجات دہندہ نے اپنے غموں کو دُنیا کے غموں کے لئے قربان کر دیا۔بے شک آپ کو آپ کے اہلِ وطن نے دھتکار دیا تھا لیکن آپ با وفا تھے، آپ اُن کو دھتکارنے کے لئے تیار نہ تھے۔آپ نے مکہ کو پیچھے چھوڑا مگر اس عزم صمیم کے ساتھ کہ پھر ملکہ کو فتح کریں گے۔مکہ کی فتح کی خاطر نہیں مکہ والوں کے دلوں کی فتح کی خاطر۔اس لئے نہیں کہ پھر اپنا وطن پنے لئے حاصل کریں بلکہ اس لئے کہ جنت سے نکالے ہوئے اور دھتکارے ہوئے مکہ والوں کو پھر اُن کے وطن جنت میں واپس لے جا کر داخل کریں۔مدینہ جو آپ کا دار ہجرت تھا وہ موسمی بخار کا گھر تھا۔جب آپ وہاں پہنچے تو طبعا مہاجرین ، جن کے وطن میں یہ بخار کم ہوتا تھا، مدینہ والوں سے بھی زیادہ اس کے شکار ہونے شروع ہوئے۔بعض نے بخار کے حملہ میں رونا اور چلانا شروع کیا اور مکہ کی یاد میں شعر گنگنانے لگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا تو اس پر خفگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ خدا کی تقدیر پر خوش ہونا اور اُس کے مقررہ فرائض کو انجام تک پہنچانے میں لگ جانا ہی مومن کا کام ہے۔اُس دن کے بعد حبشہ ، یمن اور یونان سے آکر بسے ہوئے مکہ کے عارضی باشندے تو کبھی کبھار مکہ کی یاد میں آہیں بھر لیتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی نسل بنائے مکہ سے لے کر اُس وقت تک مکہ میں بس رہی تھی وہ ملکہ کو بھلا چکے تھے۔ان کے سامنے صرف دُنیا کو نجات دلانے کا کام تھا اور وہ اسی کام میں لگ گئے اور اُس وقت تک صبر نہ کیا جب تک کہ دُنیا کو شیطان کے پنجہ سے چھڑا نہ لیا۔آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ مکہ والوں نے مجھے مکہ سے نکال دیا ہے بلکہ اس بات پر غور فرمایا کہ مکہ نے مجھے کیوں نکالا ؟ ایک پُر امن شہری اور خیر خواہ خلائق فرد کو اپنے وطن سے نکال دینے والا کسی بڑی اور گہری