انوارالعلوم (جلد 22) — Page 400
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۰ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔اس آیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت کا پتہ لگتا ہے۔بہت سے انسان سوچ سمجھ کر کام نہیں کرتے بلکہ عادتا یا رسم ورواج کی نقل میں کام کرتے ہیں۔کسی کو اگر فرشتہ نظر آ جاتا ہے تو یہ ایک شاندار حادثہ ہے اس کے لئے اس شخص کو کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔جب انسان کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جو عام حالات میں سامنے نہیں آتی تو دوسرا بے شک یہ کہ سکتا ہے کہ یہ وہم ہے۔لیکن جس شخص پر یہ بات گزرتی ہے وہ اسے وہم نہیں سمجھتا وہ اسے حقیقت سمجھتا ہے۔مثلاً ایک شخص خواب میں سانپ دیکھتا ہے وہ روتا ہے، چیختا ہے اور دوڑتا ہے۔اب دوسروں کے لئے تو یہ ایک خواب ہے لیکن جس نے یہ نظارہ دیکھا ہے اُس پر وہ تمام کیفیات طاری ہو جاتی ہیں جو فی الواقعہ سانپ دیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔اسی طرح فرض کرو کہ ایک شخص فرشتہ دیکھتا ہے لیکن دراصل وہ فرشتہ نہیں ہوتا بلکہ محض وہم ہوتا ہے تو بھی دیکھنے والے کے لئے وہ نظارہ نہایت ڈراؤنا اور ہیبت ناک ہوتا ہے۔وہ ڈرتا ہے اور اُس کا دل مرعوب ہو جاتا ہے۔اگر تمہیں محض ایک فرشتہ نظر آتا اور وہ کہتا اُٹھو اور فلاں کام کرو تو تم فوراً وہ کام کرنے لگ جاتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرشتہ نظر آتا ہے جنگل میں جہاں آپ اکیلے تھے۔ایک ہیبت ناک چیز کا سامنے آجانا جو پہاڑوں کی پرواہ بھی نہیں کرتی اور انہیں طے کر کے آجاتی ہے کوئی کم ہیبت ناک نظارہ نہیں تھا مگر جب وہ فرشتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے اِقرا تو عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ محمد رسول اللہ صرف فرشتہ کے کہنے کی وجہ سے پڑھنے نہیں لگ جائیں گے وہ دلیل چاہیں گے۔اس لئے اُس نے اس پیغام میں جو آپ کو دیا گیا ساتھ دلیل بھی رکھ دی اور اقرا ہی نہیں کہا بلکہ اقرا باسم ربك الذي خلق سے آپ کو مخاطب کیا گیا تا آپ کہہ سکیں کہ آپ کو کیوں پڑھنا چاہئے اور آپ کے پڑھنے میں کوئی فائدہ بھی ہوگا یا نہیں۔اگر خالی اقرا کہا جاتا تو آپ خیال کر سکتے تھے کہ میں اپنی قوم کو اور اپنے شہر کو چھوڑ کر یہاں آ گیا ہوں۔میری قوم کو جوڑ تتبہ حاصل تھا میں نے اُس کی بھی پرواہ نہیں کی اس لئے کہ وہ جو کچھ کرتی تھی پلا دلیل کرتی تھی اب میں اس کی بات کیوں مانوں۔پس آپ کے اخلاق کا پہلا حصہ