انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 373

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۳ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اس کے لئے سکیمیں بنانا شروع کر دیتا ہے۔اگر نئے سال کے وعدہ تک بوجھ سر پر رہے تو وقت آنے پر انسان بُزدل ہو جاتا ہے۔ایک طرف بھوک نہ لگنے کی وجہ سے طبیعت پریشان ہوتی ہے تو دوسری طرف شدت گرمی اور تپ وغیرہ کے ساتھ جان نکل رہی ہوتی ہے۔پھر سردی کے اخراجات کا فکر شروع ہو جاتا ہے اس طرح نئے وعدے تک انسان کی جان نکل جاتی ہے اور اُس کے لئے وعدے میں اضافہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر جنوری سے اگست تک وعدہ ادا کیا جاتا تو نئے وعدہ سے دس ماہ قبل وہ اکڑ کر چلتا اور نیا وعدہ بڑھ چڑھ کر کرتا۔پہلے وعدہ ادا کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک لمبا عرصہ بوجھ سے فارغ رہنے کی وجہ سے قربانی میں بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر و۔جماعت کے پاس روپیہ ہے۔ہم نے تقسیم ملک سے قبل جماعت کی ماہوار آمد کا اندازہ لگایا تھا تو وہ ۱۳ لاکھ روپیہ کی تھی اور ابھی کئی وعدے وصول نہیں ہوئے تھے۔اندازہ تھا کہ پندرہ سولہ لاکھ روپیہ ماہوار جماعت کی آمد ہے۔اگر پندرہ سولہ لاکھ جماعت کی ایک ماہ کی آمد ہے تو اس کا اگر ۳۳ فیصد بھی دیا جائے تو ہمیں چھ لاکھ روپیل سکتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وصولی بہت کم ہے۔تین لاکھ پچاس ہزار روپیہ کے گل وعدے ہیں لیکن وصولی صرف ایک لاکھ بارہ ہزار کی دفتر اول میں ہوئی ہے اور دفتر دوم میں صرف ۳۰ ۴۰ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے۔اس کی کام سے کوئی نسبت ہی نہیں۔تمام دُنیا میں تبلیغ کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔تم پہاڑ کو خلالوں سے کھود نہیں سکتے۔تم پھونکوں سے ہنڈیا پکا نہیں سکتے۔تم تنکے پر بیٹھ کر دریا پار نہیں کر سکتے۔تم نے جو کام کرنا۔وہ نہایت عظیم الشان ہے۔اتنے قریب وقت میں اتنے وسیع پیمانہ پر دُنیا کی کسی اور قوم نے کام نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں معلومہ دُنیا شام، فلسطین، عراق ، مصر اور عرب تک محدود تھی۔اب ہمارے مخاطب لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔تمام دُنیا معلوم ہو چکی ہے اور سائنس کی ترقی کی وجہ سے ذرائع آمد ورفت میں سہولت پیدا ہو گئی ہے۔پہلی قوموں کے اگر دس پندرہ لاکھ انسان مخاطب ہوتے تھے تو ہمارے اڑھائی ارب انسان مخاطب ہوتے تھے تو ہمارے اڑھائی ارب انسان مخاطب