انوارالعلوم (جلد 22) — Page 317
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۳۱۷ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش کرو تربیتی کلاس سے خطاب فرموده ۲۱ را پریل ۱۹۵۱ء بمقام ربوه ) تشہد ، تعوذ اورسورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا۔آج چودہ دن کے اجتماع کے بعد جو خدام باہر سے آئے تھے اُن کے فارغ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔میرے پاؤں میں جو درد ہے اور جمعہ پڑھانے کے بعد تکلیف زیادہ ہوگئی ہے اس لئے کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھے بیٹھے ہی چند باتیں بیان کرتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جو چیز دل سے نکلتی ہے وہی دوسروں پر اثر کرتی ہے اور اسی چیز کا نام تبلیغ اور تعلیم و تربیت ہے۔دُنیا میں ہزاروں کتابیں ہوتے ہوئے بھی انسان اپنے اصل مقام سے پھر جاتا ہے اور ایسی غلطیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار نہیں کرتا۔ورنہ صداقتیں ابتدائے عالم سے ہی موجود ہیں۔پچھلے خطبوں میں میں یہ مضمون بیان کرتا آیا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی ترکیب اور گر بتائیے جس سے محبت الہی پیدا ہو حالانکہ یہ بات غلط ہے۔دُنیا میں ہر شخص جانتا ہے کہ ماں باپ سے کیسے محبت کی جاتی ہے، اولا د اور بہن بھائیوں سے کیسے محبت کی جاتی ہے اور اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے لئے کونسی نئی چیز پیدا ہو گئی ہے جس کے لئے لوگ بھاگتے پھرتے ہیں۔جن ذرائع سے ماں باپ کی محبت پیدا ای ہوتی ہے انہی ذرائع سے خدا تعالیٰ کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی محبت کے