انوارالعلوم (جلد 22) — Page 226
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۶ سیر روحانی (۵) سن رکھو اس رسول کو ہم نے کہہ دیا ہے کہ وہ صرف اس زمانہ کے لئے نہیں بلکہ انسان کی تعریف کے نیچے جتنے انسان آتے ہیں ان سب کو یہ جمع کر نیوالا ہے خواہ وہ اس صدی کے ہوں یا اگلی صدیوں کے قیامت تک اس کا راج قائم ہے اور کوئی شخص اس کی حکومت سے باہر نہیں نکل سکتا۔بشيرا ونذيرا دنیا میں اصول یہ ہے کہ جب بادشاہت بدلتی ہے تو آنے والی حکومت کسی کو گرا دیتی ہے اور کسی کو اونچا کر دیتی ہے بشيرا ونذیرا کا بھی یہی مفہوم ہے کہ جو لوگ اس کے قانون کی پابندی کرنے والے ہوں گے اُن کو یہ بلند کریگا اور جو لوگ اس کے قانون کی نافرمانی کرنے والے ہوں گے اُن کو یہ گرادے گا۔گویا فرمایا کہ اے ہمارے رسول ! دونوں طاقتیں تجھ کو دی جاتی ہیں، تیرے ہی ذریعہ سے لوگوں کو بلند کیا جائے گا اور تیرے ہی ذریعہ سے لوگوں کو گرایا جائے گا، تیرے ہی ذریعہ سے ملزم سزا پائیں گے اور تیرے ہی ذریعہ سے متبعین انعام حاصل کریں گے۔وَلكِن اكثر النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ لیکن اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا۔کیونکہ اس سے پہلے جس قد را نبیاء گزرے ہیں ان میں سے کسی نبی کی نبوت سو سال کے بعد ختم ہو گئی تھی اور کسی کی دو سو سال کے بعد۔ان کے لئے یہ سمجھنا بڑا مشکل ہے کہ کوئی ایسا نبی بھی آسکتا ہے جس کی نبوت قیامت تک چلتی چلی جائے اور کبھی ختم ہونے میں نہ آئے چنانچہ فرمایا وَ يَقُولُونَ مَتَى هَذَا الوَعْدُ اِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے نبی ہے اس کا ثبوت کیا ہے اس طرح تو ایک جھوٹا نبی بھی کہہ سکتا ہے کہ میری نبوت کبھی ختم نہیں ہوگی بہر حال کوئی نہ کوئی ایسی دلیل ہونی چاہئے جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں کہ ہمارے سامنے جو دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے اس میں سچائی پائی جاتی ہے اور یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔فرماتا ہے قُل لَّكُمْ مِيْعَادُ يَوْءٍ لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَ لا تَسْتَقْدِمُون فرمایا اس کا پتہ تم کو ایک ہزار سال میں لگے گا۔بڑی سے بڑی نبوت جو آج تک چلی ہے وہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہی۔آدم علیہ السلام کا زمانہ لے لو، نوح علیہ السلام کا زمانہ لے لو، موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ لے لو، کوئی زمانہ بھی ہزار سال سے زیادہ لمبا نہیں رہا۔موسیٰ علیہ السلام