انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 177

انوار العلوم جلد ۲۲ 16 چھپانے کیلئے مناسب سمجھا کہ کسی چادر پر ہی بیٹھ جائیں تا کہ باہر کے لوگ یہ کہیں کہ انہیں اندر بھی گرسی ملی ہوگی۔انہوں نے ایک چادر کا کنارہ کھینچا اور اُس پر بیٹھ گئے لیکن اُن کا بیٹھنا ہی تھا کہ چادر کے مالک نے کہا۔اُٹھ اُٹھ ! تو نے میری چادر پلید کر دی ہے مسلمان ہوکر اسلام کے ایک سپاہی کے خلاف عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔الغرض عیسائیوں کی مخالفت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی لیکن پھر بھی ہم تو انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور یہ ان کے مخالف۔یہ مربعوں کی درخواستیں دیں اور ملازمتیں حاصل کرنے کیلئے انگریزوں کی خوشامد میں کرتے پھر میں تو پھر بھی انگریزوں کے مخالف ہیں لیکن ہم جن پر انگریزوں نے مقدمات کئے ان کے ایجنٹ ہیں۔غرض جتنے انگریز افسر آئے وہ سارے کے سارے ہمارے خلاف رہے۔صرف میرے زمانہ میں ایڈوائر پر یہ اثر ہوا کہ احمدیوں سے جو برتاؤ کیا جا رہا ہے وہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ہے۔وہ ہمیشہ ہمیں عزت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔میاں عزیز احمد صاحب کو نوکری نہیں ملتی تھی۔بعض لوگوں نے انہیں کہا اپنے بھائی سے کہو وہ ایڈ وائر کو کہہ دیں اور آپ کو کوئی نوکری مل جائے۔ایڈ وائر ہر مجلس میں یہ کہتا تھا کہ احمدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ درست نہیں۔لیکن ایمرسن کے زمانہ میں پھر سارے حکام ہمارے خلاف ہو گئے جو جنلنسن تک جاری رہے۔آخر یہ تو بتاؤ وہ کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ کہا جاتا ہے احرار کہتے ہیں ہم انگریزوں کے دشمن ہیں اور احمدی ان کے دوست ہیں کیا یہ ہماری انگریز دوستی کی علامت ہے کہ ۱۹۳۴ء میں کریمینل لاء امنڈ منٹ ایکٹ کے ماتحت مجھے نوٹس دیا گیا کہ احمدی ان دنوں قادیان میں نہ آئیں اور یہ نوٹس مجھے گیارہ بجے رات کو دیا گیا۔اور پھر چار پانچ سو پولیس افسر دوسپر نٹنڈنٹ پولیس اور ایک ڈپٹی کمشنر اس لئے قادیان بھیجے گئے تا کہ تلواروں کی نوکوں کے نیچے مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری تقریر کریں۔اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ انگریز احمدیوں کا دوست تھا یا احرار کا ؟ پھر جب لاہور میں مسجد شہید گنج کو گرایا گیا اُس وقت گورنر کے اے ڈے سی کے نام برابر یہ فون آتے تھے کہ خبردار! احرار کو تکلیف نہ ہو۔کیا یہ ہماری انگریز دوستی اور انکی انگریز دشمنی