انوارالعلوم (جلد 22) — Page 171
انوار العلوم جلد ۲۲ KI شریک تھی۔بدقسمتی سے ایڈورڈ ہشتم نے ایک دفعہ آرچ بشپ آف کنٹر بری کی دعوت کی اور اُس عورت کو بھی بلا لیا۔آرچ بشپ آف کنٹر بری ناراض ہو گیا اور اس نے بادشاہ سے فوراً استعفیٰ دلوا دیا۔یہ دلیل ہے اس بات کی کہ انگریز مذہب کے بارہ میں نہایت متعصب واقع ہوئے ہیں اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹرائیلی کی بہن سخت کٹر پادری تھی جو بھی فوت ہوئی ہے۔ہمارے مشن میں بھی وہ آیا کرتی تھی۔وہ ساؤتھ افریقہ میں بطور مشنری کام کرتی تھی۔پس انگریز خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ان میں اسلام کے خلاف اور عیسائیت کی تائید میں شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔میں جب انگلستان گیا تو ایک دہر یہ ڈاکٹر سے میرا تبادلہ خیالات ہؤا۔اس سے جب میری گفتگو ہوئی تو اُس نے دو چار فقرات کے بعد ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیا۔میں نے کہا آپ تو دہر یہ ہیں۔اُس نے پھر اعتراض کیا تو میں نے کہا آپ تو دہر یہ ہیں لیکن جب اُس نے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تو میں نے حضرت مسیح علیہ السلام پر اعتراض کر دیا۔اس پر وہ کہنے لگا میں مسیح کے متعلق کوئی بات سُنے کیلئے تیار نہیں۔میں نے کہا اگر تم مسیح کے متعلق کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں تو کیا میں ہی ایسا بے غیرت ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق اعتراضات سنتا چلا جاؤں اور خاموش رہوں۔غرض برطانیہ کے ایک دہریہ کو بھی عیسائیت سے محبت ہے۔عیسائیت کی محبت میں برطانیہ اور امریکہ سب سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں اور یہ دونوں مملک جتنا روپیہ مشنوں پر خرچ کر رہے ہیں ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ آمد اس کا چوتھا حصہ نہیں۔ہندوستان اور پاکستان کی مشتر کہ آمد چھ ارب روپیہ یعنی ۶۵ کروڑ پاؤنڈ ہے لیکن برطانیہ اور امریکہ دونوں مشنوں پر جو خرچ کر رہے ہیں وہ ایک ارب پاؤنڈ سالانہ سے زیادہ ہے۔گویا عیسائی مشنوں کے اخراجات ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ آمد سے بھی زیادہ ہیں اور یہ روپیہ برطانیہ اور امریکہ دیتے ہیں۔چھوٹے حکام سے لے کر وائسرائے اور بادشاہ تک گر جا میں جاتے ہیں۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ احراریوں کے خیال کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام