انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 151

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۱۵۱ متفرق امور نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۵۰ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ا حباب کو معلوم ہے کہ میرا یہ سارا سال زیادہ تر کھانسی اور نزلہ کی تکلیف میں ہی گزرا ہے اور بی بیماری کی وجہ سے میرے جسم میں اب وہ تاب و توانائی نہیں ہے کہ میں زیادہ بول سکوں۔سردی میں اُٹھنے بیٹھنے سے میرے جسم میں دردیں شروع ہو جاتی ہیں اور میرے لئے بیٹھنا یا کھڑا ہونا مشکل ہو جاتا ہے اسی لئے میں نے احباب سے یہ خواہش کی تھی کہ جہاں تک ہو سکے گرد اڑانے سے پر ہیز کریں اور اگر ان کی ملاقاتوں پر کوئی پابندی لگائی جائے تو وہ اُسے خوشی سے قبول کریں کیونکہ یہ پابندی اُنہی کے فائدہ کے لئے ہے۔مجھے خوشی ہے کہ جو دوست ملاقات کے لئے آتے رہے ہیں انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے اور اس دفعہ ملاقات کے دوران میں گرد نہیں اُڑی۔اسی طرح جب کبھی میں نماز کے لئے جلسہ گاہ میں آیا ہوں تو میرے کانوں میں یہ آوازیں بھی پڑتی رہی ہیں که دوست گرد نہ اُڑائیں۔بہر حال یہ اقدام تو آئندہ کی احتیاط کے لئے ہے ورنہ جو بیماری ہے وہ بدستور موجود ہے اور میرا گلا بیٹھا ہوا ہے۔میرا ارادہ تھا کہ عورتوں میں صرف دس پندرہ منٹ تقریر کروں تا کہ گلا محفوظ رہے لیکن جب میں نے تقریر شروع کی تو گلے کا خیال نہ رہا اور وہ تقریر ایک گھنٹہ کے قریب رہی۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کا میرے گلے پر اس وقت اثر ہے لیکن بہر حال جب تک مجھے طاقت ہے اُس وقت تک میرا یہی کام ہے کہ میں اپنے اُس فرض کو ادا کرتا چلا جاؤں جو میرے پیدا کرنے والے نے