انوارالعلوم (جلد 22) — Page 138
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۸ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو اثر حضرت عمر پر بھی تھا چنا نچہ وہ کہنے لگے یا رَسُول اللہ ! میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا کہ تم مجھے مشورے دیتی ہو تمہاری کیا حیثیت ہے کہ تم اس قسم کی باتیں کرو۔اس پر وہ کہنے لگی حفصہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہے تم مجھے روکتے ہو تمہارا کیا حق ہے تم مجھے روکو ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو منع نہیں فرماتے۔میں نے کہا کہ اگر یہ بات درست ہے تو کسی دن تمہاری بیٹی کو طلاق مل جائے گی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہنسے اور آپ فرمانے لگے کہ میں نے تو طلاق نہیں دی۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کس قدر عورتیں اپنے مردوں کو مشورے دیتیں اور ان پر ایک رنگ کی حکومت رکھتی تھیں۔کے پرانی طرز کے لوگ جیسے حضرت عمرؓ تھے اپنی بیویوں کو ڈراتے بھی تھے کہ اگر تم نے یہی طریق جاری رکھا تو تمہیں طلاق دینی پڑے گی لیکن بہر حال اسلام نے عورت کا درجہ قائم کیا۔اگر واقعہ میں عورت قابل نہ ہوتی تو کیا خدا عورتوں سے ڈرتا تھا وہ سیدھی طرح کہہ دیتا کہ عورتوں کو گھروں میں بٹھاؤ۔نہ انہیں علم سکھاؤ اور نہ انہیں دین کے مسائل سمجھا ؤ صرف روٹیاں پکانے میں انہیں مشغول رکھو۔مگر جب خدا نے کہا کہ عورت کو دین سکھاؤ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی دولڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے اور انہیں علم سکھائے تو اُس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے گے تو اس کے معنی یہ تھے عورت بھی ویسا ہی دماغ رکھتی ہے جیسا کہ مرد ر کھتے ہیں اور عورت بھی ویسے ہی ترقی کر سکتی ہے جیسے مرد کر سکتے ہیں۔اگر عورت کا دماغ اس قابل نہیں تھا کہ وہ دین کو سمجھ سکتا ، اگر عورت کا دماغ اس قابل نہیں تھا کہ وہ علوم کو اخذ کر سکتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیوں فرماتے۔پس دماغ تو ہے مگر عورت کو اس سے کام لینا نہیں آتا کیونکہ اسے کام کی طرف توجہ نہیں۔اس وقت ہزاروں عورتیں یہاں بیٹھی ہیں اس سال کچھ تو جلسہ گاہ بڑی بنا دی گئی ہے اور کچھ سردی کی وجہ سے عورتیں کم آئی ہیں لیکن پھر بھی کل دو پہر کو پانچ ہزار عورت شمار کی گئی تھی۔ممکن ہے آج اس سے بھی زیادہ ہوں یا کم از کم کل جتنی ہی ہوں چونکہ ہمارے جلسہ گاہ میں غیر احمدی عورتیں بھی آتیں ہیں اور وہ بھی اس تعداد میں شامل ہوتی ہیں اس لئے اگر