انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 136

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۶ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو یور بین خیالات کی وجہ سے یا پُرانے مظالم کے رد عمل کی وجہ سے یا علم پھیلنے کی وجہ سے عورت کی حکومت اب پھر قائم ہو رہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکومت قائم کی تھی مگر بعد میں مسلمانوں نے اس کو بھلا دیا۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے کوئی ایسی بات کی جو آپ کو پسند نہ تھی اور جس سے فتنہ پیدا ہوسکتا تھا اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ہم الگ رہیں گے۔چنانچہ آپ نے باریاں چھوڑ دیں مسجد میں خیمہ لگا کر سب سے الگ تھلگ رہنا شروع کر دیا اور لوگوں نے جب یہ بات سنی تو ان میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔حضرت عمر کو اپنی رہائش کے لئے چونکہ شہر میں جگہ نہیں ملی تھی اس لئے آپ مدینہ سے باہر رہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک ایک انصاری اور مہاجر کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تھا۔حضرت عمر کا جو انصاری بھائی تھا ایک دن وہ شہر میں آتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننا اور دوسرے دن حضرت عمر آتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہوتے۔جس دن یہ واقعہ ہوا ہے اُس دن حضرت عمر کی نہیں بلکہ ان کے انصاری بھائی کی مسجد میں آنے کی باری تھی۔شام کے وقت وہ گھبرایا ہوا واپس گیا اور جاتے ہی حضرت عمر سے کہنے لگا عمر ! اندھیر ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔حضرت عمر بھی یہ سنتے ہی گھبرائے ہوئے اندر گئے اور جا کر اپنی بیوی سے کہنے لگے آخر وہی ہوا جس سے میں ڈرتا تھا۔ارے میں تجھے سمجھایا کرتا تھا کہ مردوں کے مقابلہ میں باتیں نہیں کرنا چاہئیں اور تو ہمیشہ کہتی تھی میں کیوں نہ بولوں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کے سامنے بولتی ہیں اور آپ انہیں منع نہیں فرماتے تو تم مجھے منع کرنے والے کون ہو۔اور میں تجھے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا اور کسی دن انہیں طلاق مل جائے گی چنانچہ وہی ہو ا جس سے میں ڈرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری بیویوں کو طلاق دے دی ہے اس کے بعد اسی گھبراہٹ