انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xvi

"1 حضور نے دربار عام میں ہونے والے دس امور کو نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں روحانی دربار پر اطلاق کر کے تفصیلاً بیان فرمایا اور اسلام پر ہونے والے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا جیسے تعدد ازدواج وغیرہ اور قرآن کریم کو ایک مکمل اور جامع قانون کے طور پر پیش فرمایا اور بیان کیا کہ دُنیا میں جاری ہونے والے قوانین عارضی ہوتے ہیں لیکن قرآنی تعلیم دائمی ہے۔حضور نے امریکہ کے قانون کی مثال دی ہے کہ ایک وقت میں شراب حرام قرار دی گئی مگر کچھ عرصہ کے بعد پھر حلال کر دی گئی مگر قرآن نے تاقیامت شراب حرام کر دی ہے۔(۱۲) اپنے اندر سچائی محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی بنیاد چونکہ ۴ رفروری کو ڈالی گئی تھی اس مناسبت۔نئے سال کے آغاز پر مجلس نے مؤرخہ ۱۲ فروری ۱۹۵۱ء کو ایک تقریب کا انعقاد کیا۔اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے خدام سے ایک خطاب فرمایا جس میں آپ نے خدام کو سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی نصیحت فرمائی۔سچائی کے متعلق فرمایا کہ بلا محل سچ بولنے سے بعض دفعہ فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے اس لئے شریعت نے حکم دیا ہے کہ گواہی صرف قاضی لے۔اور محنت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یورپ کے مقابل پر ہمارے نوجوانوں کو محنت کی عادت نہیں اور ۲۵ ، ۲۵ سال تک اپنے والدین کے سہارے جی رہے ہوتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو پڑھائی کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور ہر نو جوان کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنی پڑھائی ختم کرے اور پھر اپنی قوم اور ملک کی خاطر کوئی کام کرے۔(۱۳) اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش کرو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی چودہ روزہ تربیتی کلاس بمقام ربوہ منعقد ہوئی جس میں بیرون ربوہ سے بھی خدام نے شرکت کی۔۲۱ / اپریل ۱۹۵۱ء کو اس کلاس کی اختتامی تقریہ