انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 77

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 22 بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر (فرموده ۲۶ /نومبر ۱۹۵۰ء بمقام بیت احمد یہ بھیرہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ایک ربع صدی سے زیادہ عرصہ ہو ا یعنی تقریباً ۳۰ سال ہوئے جب سے میرے دل میں اس شہر میں آنے کا شوق تھا۔بھیرہ ، بھیرہ والوں کے لئے اینٹوں اور گارے یا اینٹوں اور چونے سے بناہوا ایک شہر ہے مگر میرے لئے یہا مینٹوں اور گارے یا اینٹوں اور چونے کا بنا ہو ا شہر نہیں تھا بلکہ میرے اُستاد جنہوں نے مجھے نہایت محبت اور شفقت سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا اور بخاری کا بھی ترجمہ پڑھایا ان کا مولد ومسکن تھا۔بھیرہ والوں نے بھیرہ کی رہنے والی ماؤں کی چھاتیوں سے دودھ پیا لیکن میں نے بھیرہ کی ایک بزرگ ہستی کی زبان سے قرآن کریم اور حدیث کا دودھ پیا۔پس بھیرہ والوں کی نگاہ میں جو قدر بھیرہ شہر کی ہے میری نگاہ میں اس کی اس سے بہت زیادہ قدر ہے۔میری صحت بچپن سے ہی کمزور تھی اور میں اکثر بیمار رہتا تھا جس کی وجہ سے میں پڑھائی میں سخت کمز ور تھا۔میری آنکھوں میں گرے تھے اور گلے میں سوزش رہتی تھی اس لئے نہ تو میں پڑھ سکتا تھا اور نہ اچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔اُن دنوں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل مولوی نورالدین صاحب جو بھیرہ کے رہنے والے تھے اُنہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ میاں ! سے قرآن کریم پڑھا کرو۔تمہیں نہ دیکھنے کی تکلیف ہوگی اور نہ پڑھنے کی تکلیف ہوگی میں خود ہی بولا کروں گا اور میں ہی کتاب دیکھا کروں گا۔چنانچہ میں نے آپ سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔میں قرآن کریم کھول کر سامنے رکھ لیتا اور