انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page ix

انوار العلوم جلد ۲۱ تعارف کتب (۳) ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر ۱۹ /جنوری ۱۹۴۹ء کو لا ہور کی جماعت نے جرمن نو مسلم ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خطا کرتے ہوئے فرمایا۔جرمنوں نے اطالویوں کی مدد سے ایک عربی ملک ٹنیشیا ( تونس ) پر یورش کی تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو ختم کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی، اُنہیں ہزیمت ہوئی اور اب جب اسلام کے مبلغ اُس ملک میں پہنچے تو وہ اُن کے تمدن ، اُن کے مذہب اور اُن کی اخلاقیات پر وہی کونے کا پتھر بن کر کچھ اس طرح گرے کہ اُن کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا اور اُنہیں 66 حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہی بنی۔“ ۲۴ / جنوری ۱۹۴۹ء کو جماعت احمد یہ لاہور نے جرمن نومسلم ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوت عشائیہ دی۔دعوت کے خاتمہ پر تلاوت کے بعد جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور نے ایک مختصر تقریر کے ساتھ جماعت کی طرف سے ہر عبدالشکور کنزے کو مرحبا کہا جس کے جواب میں مسٹر کنزے نے جماعت احمد یہ لاہور کا شکریہ ادا کرنے کے بعد قادیان کے حصول کے لئے مخلصانہ اور دردمندانہ دعائیں کرنے کی درخواست کی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خطاب فرمایا جس میں ہر عبدالشکور کنزے کے قبول احمدیت کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔یوروپین لوگوں میں سے جنہوں نے اسلام کو بطور اسلام قبول کیا ہے مسٹر کنزے دوسرے آدمی ہیں۔پہلے آدمی بشیر احمد آرچرڈ ہیں وہ بھی نہایت مخلص اور اسلام کے ساتھ ایک قسم کا عشق رکھنے والے ہیں۔وہ پہلے