انوارالعلوم (جلد 21) — Page 619
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۹ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔آپ کے منہ سے یہ کلمہ نکل گیا کہ جعفر" پر تو کوئی نہیں اور ہا اس لئے کہ ان کے رشتہ دار وہاں نہیں تھے اور دوسروں کے رشتہ دار مدینہ میں تھے یہ خبر عورتوں میں پہنچی۔انہوں نے فورا رونا بند کر دیا کہ اور مدینہ کی ساری عورتیں حضرت جعفر کے گھر پہنچ گئیں اور وہاں رونا شروع کر دیا۔حضرت جعفر کے گھر سے جب رونے کی آواز آئی تو آپ بہت گھبرائے اور دریافت فرمایا کہ یہ شور کیسا ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! آپ نے ہی فرمایا تھا کہ جعفر پر رونے والا کوئی نہیں عورتوں نے جب یہ سنا تو انہوں نے خیال کیا کہ واقعہ میں ہم سے غلطی ہوگئی۔ہم اپنے بچوں ، بھائیوں، باپوں اور خاوندوں پر رو رہی تھیں ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی کے بھائی پر ان کی سے زیادہ رونا چاہئے۔آپ کا بھائی ہمارے بچوں ، بھائیوں ، باپوں اور خاوندوں سے مقدم ہے۔آپ نے فرمایا میرا تو یہ مطلب نہیں تھا یونہی میرے منہ سے ایک فقرہ نکل گیا تھا ورنہ میں تو رونا پسند نہیں کرتا۔چنانچہ آپ نے ایک شخص سے کہا انہیں رونے سے منع کر ولیکن ان عورتوں کو تو یہ احساس تھا کہ پہلے ہم سے یہ غلطی ہو گئی تھی ہم نے اپنے مُردوں پر رونا شروع کر دیا تھا دراصل ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی پر رونا چاہئے تھا۔اس مرد نے بہتیرا کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رونا بند کر دو لیکن وہ کہنے لگیں۔جاؤ جاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی مارا گیا ہے ہم اس پر ضرور روئیں گی۔ہر قوم میں بعض کم سمجھ والے آدمی ہوتے ہیں اور بعض زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔وہ شخص بھی کم سمجھدار تھا جب اُسے عورتوں نے یہ جواب دیا تھا تو اُسے چاہئے تھا کہ خاموش رہتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہایا رَسُولَ اللهِ! میں نے ان عورتوں تک آپ کا م پہنچایا تھا لیکن اُنہوں نے مانا نہیں۔ہماری پنجابی کی طرح عربی میں بھی ایک محاورہ ہے فلاں کے منہ پر مٹی ڈال۔آپ نے فرمایا ان کے منہ پر مٹی ڈال اور اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ انہیں رونے دو۔خود بخو درو دھو کر چپ ہو جائیں گی لیکن وہ شخص زیادہ سمجھدار نہیں تھاوہ آپ کا مطلب نہ سمجھ سکا اُس نے مٹی اُٹھا کر عورتوں کے منہ پر ڈالنا شروع کی۔حضرت عائشہ ناراض کی ہوئیں اور فر ما یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ منشاء نہیں تھا۔اُس شخص نے پھر شکایت کی آپ نے فرمایا عائشہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ٹھیک ہے۔اب بتاؤ کہ کتنی عورتیں ہیں جو اپنے قومی کا موں