انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 583

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۳ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی سخت سے سخت مظالم کئے ، ہم نے اپنی طاقت اور دولت کو آپ کے خلاف صرف کیا اور باوجود اس کے کہ جتھہ ہمارے پاس تھا ، صنعت و حرفت ہمارے پاس تھی ، تجارت ہمارے پاس تھی اور آپ اکیلے تھے پھر بھی آپ ہی جیتے اور ہم ہار گئے۔اگر ہمارے معبودوں میں ایک رائی کے برابر بھی طاقت ہوتی تو کیا ہمارا یہی انجام ہوتا۔اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد اب یہ خیال بھی کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز پہچان لی اور فرمایا ہندہ ہے؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے خلاف تو قتل کا فیصلہ ہو چکا کی ہے۔اس نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! وہ وقت گزر گیا جب آپ کا زور مجھ پر چل سکتا تھا اب میں کا فر ہندہ نہیں بلکہ مسلمان ہندہ ہوں تو دیکھو یہ چیلنج تھا جو دشمنوں کو دیا گیا تھا اور جس نے ثابت کر دیا کہ سچائی اور صداقت اگر ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی ہے۔اسی طرح حضرت نوح کا چیلنج قرآن کریم میں موجود ہے کہ تم بے شک اکٹھے ہو جاؤ گی 66 اور مل کر مجھ پر حملہ کرو اور پھر دیکھو کہ میں کامیاب ہوتا ہوں یا تم کامیاب ہوتے ہو۔پس قُل اَعُوذُ برب الفلق میں ایک طرف دوستوں کو دعوت دی گئی ہے کہ تم میرے اخلاق کو جانتے ہو، میری عادات سے واقف ہو تم بتاؤ کہ آیا میں سچ بولنے والا ہوں یا جھوٹ بولنے والا ہوں؟ اگر میری ہر بات اپنے اندر سچائی رکھتی ہے اور میرا ہر فعل اپنے اندر پاکیزگی رکھتا ہے تو آؤ اور میری اتباع کرو۔دوسری طرف دشمنوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ میرا قدم راستی اور صداقت پر قائم ہے اگر تم میرا مقابلہ کرو گے تو ہار جاؤ گے۔اس دعویٰ کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور آپ نے فرمایا اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں خدا تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں۔مگر کون سے خدا سے؟ اس خدا سے جو رَبِّ الْفَلَقِ ہے جو فَلَقِ کا پیدا کرنے والا ہے۔فَلَقْ کے کئی معنی ہی ہیں۔فلق کے معنی مخلوق کے بھی ہیں۔فَلَق کے معنی صبح کی روشنی کے بھی ہیں اور فلق کے معنی پو پھٹنے کے بھی ہی کے پس اَعُوذُ برب الفلق کے ایک معنی یہ ہوئے کہ میں روشنی کے ربّ کی پناہ مانگتا ہوں۔یعنی دنیا میں جب کبھی نور آتا ہے، جب کبھی روشنی آتی باوجود اس کے کہ نور اور روشنی بڑی اچھی چیزیں ہیں پھر بھی اس کے آنے کے ساتھ ہی فساد شروع ہو جاتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی آئے اور فساد نہ ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی اچھی تعلیم دے اور لوگ