انوارالعلوم (جلد 21) — Page 578
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۸ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشہ اپنے دشمن کو یہی الفاظ کہے جاتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا مذ ہب تو یہ ہے اب تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو بے شک کر لو۔غرض فل کا لفظ یا تو چیلنج کیلئے استعمال ہوتا ہے اور یا پھر دوسروں کو اپنی تعلیم کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہوتا ہے۔پس قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے تجھے ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے جو قوم کے تمام مردوں اور عورتوں کے لئے انتہائی طور پر مفید ہے۔ایسی اعلیٰ اور مفید اور بابرکت تعلیم کہ تو اپنے نفس تک ہی محدود نہ رکھ بلکہ دنیا کے تمام لوگوں تک اسے پہنچا اور سب کو اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلا۔دوسری طرف قل کہہ کر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کی تو اپنے دشمنوں سے کھلے طور پر کہہ دے کہ میں تمہاری مخالفتوں اور دکھوں اور فریبوں کی کوئی کی پرواہ نہیں کرتا میں اپنی باتوں پر مضبوطی سے قائم ہوں اور تمہیں چیلنج دیتا ہوں کہ تم نے میری مخالفت میں جو کچھ زور لگانا ہے لگا لو۔گویا یہ ایسی سورۃ ہے جس میں دوستوں کو بھی مخاطب کیا گیا تج ہے اور دشمنوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔دوستوں کو بلایا گیا ہے کہ آؤ اور اس تعلیم پر عمل کرو۔اور دشمنوں کو چیلنج کیا گیا ہے کہ تم اپنی ساری طاقتوں کو اکٹھا کر لو اور میرے مٹانے کے لئے پورا زور صرف کر لو پھر بھی میں ہی غالب رہوں گا تم غالب نہیں آسکتے۔یہی وجہ ہے کہ فل والی سورتیں مسلمانوں میں بڑی اہم سمجھی جاتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قُلْ هُوَ الله احد قرآن کریم کا دل ہے۔اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص رات کو سوتے وقت آخری تین سورتیں اور آیت الکرسی پڑھ کر اور اپنے ہاتھوں کو پھونک کر دونوں ہاتھ اپنے سارے جسم پر پھیر لے وہ مختلف قسم کے توہمات اور بیماریوں اور پریشانیوں اور بے اطمینانیوں سے بچ جاتا ہے۔ہے پس لفظ قل نے بتا دیا کہ اس میں دوست بھی مخاطب ہیں اور دشمن بھی مخاطب ہیں دوستوں کو یہ کہا گیا ہے کہ آؤ اور اس تعلیم پر عمل کرو جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔اور دشمنوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اپنی ساری طاقتوں کو اکٹھا کر کے مجھ پر حملہ کر دو اور پھر دیکھو کہ کون کی کامیاب ہوتا ہے۔میں تو انہی باتوں پر قائم ہوں جو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ تحدی کوئی معمولی بات نہیں۔کسی شخص کا اپنے تمام دوستوں سے یہ کہنا کہ