انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 572

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۲ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام۔۔کات کات کر اُس کی مزدوری سے سونے کے کڑے بنائے لیکن ایک چور آیا اور ایک رات زبر دستی وہ کڑے چھین کر لے گیا۔اُس بڑھیا نے چور کی شکل پہچان لی۔سال دو سال بعد اُس بڑھیا نے پھر کڑے بنالئے۔ایک دن وہ گلی میں بیٹھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ چرخہ کات رہی تھی کہ وہ چور لنگوٹی پہنے پاس سے گزرا۔اُس عورت نے اُس کی شکل پہچان لی اور آواز دے کر کہا بھائی ذرا بات سن جانا۔وہ شخص چور تھا اور اُسے معلوم تھا کہ میں نے اس گھر میں چوری کی ہے اُسے کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں مجھے پکڑوا نہ دیا جائے۔وہ بھا گا۔اُس عورت نے کہا میں تجھے پکڑواتی تج نہیں ہوں صرف ایک بات کرنی ہے۔اُس عورت نے کچھ اس انداز سے یہ بات کہی کہ اس کی چور کا خوف دور ہو گیا اور وہ ٹھہر گیا۔اُس عورت نے کہا میں نے تمہیں اتنا ہی بتانا تھا کہ حلال وحرام میں کتنا فرق ہے۔میں نے محنت مزدوری کرکے سونے کے کڑے بنائے تھے اور وہ تو لے گیا لیکن تمہاری اب بھی لنگوئی کی لنگوٹی ہے اور میرے پاس اب بھی کڑے موجود ہیں۔ہمیں غیر مبائع کہا کرتے تھے کہ قادیان میں ہونے کی وجہ سے ان کو یہ قبولیت حاصل ہے اور لوگ ان کی کی طرف اس لئے آتے ہیں کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ مرکز ہے صرف اسی لئے ان کے گرد جماعت اکٹھی ہو رہی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں وہاں سے نکال دیا اور مخالف کو یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ قادیان سے نکلنے کے بعد بھی مخالف ہماری طاقت کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔ہم اس عورت کی طرح اُنہیں کہتے ہیں کہ تمہاری وہی لنگوٹی کی لنگوٹی۔اور ہمارے پاس کڑے اب بھی موجود ہیں۔ہم قادیان سے نکل کر بھی کمزور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے ہم ایک ایک دود و مبلغوں کی چھ دعوتیں کرتے تھے اور اب ہم درجنوں کی دعوتیں کرتے ہیں۔کیونکہ اب مبلغوں کے رسالے باہر جانے شروع ہو گئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ایک ہی دفعہ مبلغوں کی بٹالین باہر جائیں گی۔وہ دن دور نہیں جب مبلغوں کے بریگیڈ باہر جائیں گے۔وہ دن دور نہیں جب مبلغوں کی کے ڈویژن تبلیغ اسلام کے لئے باہر جائیں گے۔(انْشَاءَ اللهُ تَعَالَی) تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۱ ۵ مطبوعہ لا ہو ر ۱۸۹۲ء (الفضل اا راپریل ۱۹۶۱ء )