انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 539

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۳۹ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب پر بادل آئے ہوئے ہوتے ہیں، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہوتی ہے تو اُس کے جسم میں حرکت اور خون میں تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کی طبیعت شعر کہنے کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔یا چمن میں گئے اور فوارے چلتے دیکھے تو طبیعت جس ڈگر پر چل رہی تھی اس سے بدل گئی اور شعر کی طرف مائل ہو گئی۔یا چاندنی رات ہے ، میدان میں سیر کے لئے نکلے تو چاند کی چاندنی سے متاثر ہوئے اور شعر کہنے لگ گئے۔یا صبح کے وقت ٹھنڈی ہوا سے آنکھ کھل گئی دیکھا تو نیند پوری ہو چکی تھی اور طبیعت میں شگفتگی تھی اُس وقت صبح کی ٹھنڈی ہوا نے تحریک پیدا کر دی اور شعر گوئی کی طرف طبیعت کا میلان ہو گیا۔تو کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اگر وہ ذرائع اچھے ہوں اور طبیعت بھی اچھی ہو تو اچھے نتائج پیدا ہوتے ہیں اور اگر ذرائع اچھے نہ ہوں یا طبیعت اچھی نہ ہو تو خوشگوار نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔شاہ عالم بادشاہ سودا سے اپنے شعر درست کروایا کرتے تھے ایک دفعہ بادشاہ نے اپنی ایک غزل سودا کو اصلاح کے لئے دی مگر ایک ہفتہ گزر گیا اور اُنہوں نے نظم واپس نہ کی۔بادشاہ نے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ طبیعت حاضر نہیں۔اس پر پھر ایک ہفتہ گزر گیا۔اگلے ہفتہ اُنہوں نے دوباره دریافت کروایا تو سودا نے پھر یہی جواب دیا کہ طبیعت حاضر نہیں مجبوراً بادشاہ نے ایک اور ہفتہ انتظار کیا اور خیال کیا کہ شاید اب غزل واپس آ جائے گی۔مگر پھر بھی نظم واپس نہ آئی اور جب بادشاہ نے پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ طبیعت حاضر نہیں۔اس پر بادشاہ کو غصہ آیا اور اُس نے کہا کہ آپ کی طبیعت بھی عجیب ہے کہ حاضر ہونے میں ہی نہیں آتی ہم تو پاخانہ کی بیٹھے بیٹھے دو غزلیں کہہ دیا کرتے ہیں۔سودا تیز طبیعت انسان تھے اُنہوں نے کہا حضور ! ان کی میں سے کو بھی تو ویسی ہی آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے بادشاہ کو قبض کی بیماری ہو گی اور چونکہ ایسا کی انسان بیٹھے بیٹھے مختلف خیالات میں مبتلا رہتا ہے اسی قسم کے خیالات اسے بھی سوجھتے ہوں گے اور وہ وقت گزارنے کے لئے غزل کہنے لگ جاتا ہو گا مگر یہ ظاہر بات ہے کہ جب محرک بُرا ہوگا جی تو نتیجہ بھی بُرا ہوگا۔وہ شخص جس کو شعر کہنے کی تحریک فوارے کرتے ہیں یا چاندنی راتیں کرتی ہیں یا برسات کا موسم کرتا ہے یا باغ کا نظارہ کرتا ہے اور وہ شخص جسے شعر کہنے کی تحریک قبض کرتی ہے ان دونوں کے شعر کبھی برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک کا محرک اور ہے اور دوسرے کا محرک اور