انوارالعلوم (جلد 21) — Page 538
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۳۸ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب والوں کا اعزاز کیا جاتا ہے تو دوسرے نو جوانوں کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے جس میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہئے۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ فلاں مبلغ جا رہا ہے یا آرہا ہے اور اُس کے لئے نعرے لگ رہے ہیں مرحبا اور تحسین کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو نو جوان طبیعتیں جو ان باتوں سے بڑی جلدی متاثر ہوتی ہیں فوراً یہ خیال کرنے لگ جاتیں ہیں کہ اوہو! ہم تو محروم ہی رہ گئے۔اگر ہم جاتے تو ہمارے لئے بھی نعرے لگتے اور ہمیں بھی مَرْحَبًا اور جَزَاكَ اللہ کہا جاتا۔ان کا دماغ ابھی اتنا پختہ نہیں ہوتا کہ وہ اس فعل کے روحانی نتائج پر نظر ڈال سکیں لیکن نعروں اور مرحبا اور تحسین کی آوازوں کا ان پر گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ نعرے انہیں دینی خدمت کی طرف زیادہ سے زیادہ مائل کرتے چلے جاتے ہیں۔پس ان کی دعوتوں سے ایک تو ہماری یہ غرض ہوتی ہے کہ نو جوانوں کے دلوں میں تحریک پیدا ہو اور وہ بھی اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے پیش کریں۔تم اسے نفسانیت کہہ لو مگر چونکہ اس سے ہماری ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ خدا اور خدا کے دین کو فائدہ پہنچتا ہے اس لئے یہ کوئی بُری چیز نہیں۔در حقیقت ہمارا یہ طریق ایسا ہی ہوتا ہے جیسے شکاری مچھلی کے شکار کے لئے کنڈی ڈالتا ہے تو اس کے ساتھ آنا بھی لگا دیتا ہے تا کہ مچھلی آئے اور پھنس جائے اس طرح یہ بھی نو جوانوں کو پھانسنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے مگر چونکہ وہ دین کیلئے پھانسے جاتے ہیں ، خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے پھانسے جاتے ہیں اس لئے خواہ ننگے الفاظ میں اسے مچھلی کے شکار سے مشابہت دے لو بہر حال یہ شکار مبارک ہے کیونکہ یہ شکار اپنے لئے نہیں کیا جاتا اپنے عزیزوں کے لئے نہیں کیا جاتا بلکہ خدا اور اُس کے رسول کے لئے کیا جاتا ہے۔دوسرا فائدہ اُس سے یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والوں اور جانے والوں کے لئے بعض خیالات جو مستقل حیثیت رکھتے ہیں ان کی کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے۔انسانی دماغ کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ اسے نیا مضمون نکالنے کے لئے کسی نئے محرک کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک بامذاق انسان جو ہنسی اور مزاح کی تی طرف اپنا میلان رکھتا ہے وہ بھی ہر وقت ہنسی اور مزاح کی باتیں نہیں کرتا بلکہ ان باتوں کے لئے کچھ اسے بھی کسی محرک کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک شاعر جو شعر کہنے کا عادی ہے وہ بھی ہر وقت شعر نہیں کہہ سکتا بلکہ اسے بھی کسی محترک کی ضرورت ہوتی ہے۔برسات کا موسم ہوتا ہے، آسمان