انوارالعلوم (جلد 21) — Page 528
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۸ اسلام اور ملکیت زمین اور گورنمنٹ کی مدد ایک حد تک روپے یا اجناس کی وصولی میں ہو تو زمیندار کو وقت پر روپیہ سہولت سے مل سکے گا اور کئی کام جن کے لئے اب وہ مالک زمیندار کی طرف متوجہ ہونے کا محتاج ہوتا ہے اور اس طرح اُس کی جان اُس کے قابو میں آجاتی ہے وہ تعاون با ہمی کی انجمنوں سے اپنی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔میں نے یہ چند باتیں مثال کے طور پر زمینداروں کی حالت کی درستی کے لئے پیش کی ہیں اور میرے نزدیک یہی طبعی ذرائع ہیں۔غیر طبعی ذرائع اختیار کر کے کبھی کوئی حکومت یا قوم کامیاب نہیں ہو سکتی اور غیر شرعی ذرائع استعمال کر کے تو اگلے جہان میں بھی کوئی قوم سرخرو نہیں ہو سکتی۔میں سمجھتا ہوں کہ اور بہت سے ذرائع ایسے اختیار کئے جاسکتے ہیں جن سے زمینداروں کی حالت کو درست کیا جا سکے مگر ایسا حکومت اور پبلک کے تعاون سے ہی ہوسکتا ہے۔اور اسی کی طرف میرے نزدیک حکومت کو توجہ کرنی چاہیے نہ کہ اُن غیر طبعی تجاویز کی طرف جو اُس کو ایسی مشکلات میں اُلجھا دیں گی کہ وہ کمیونزم کے حملہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھے گی اور جس چیز کو وہ علاج سمجھتی ہے وہی اُس کے لئے مرض بن جائے گا۔آخر میں میں بڑے زمینداروں کو بھی اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں اسلام کی بنیاد اخوت اور رحم پر ہے اُن کے اپنے بھائیوں کی مشکلات کے حل کرنے میں سیاسی لیڈروں سے زیادہ کوشاں ہونا چاہئے۔اگر وہ غریب زمیندار کی مددخود خوشی سے کریں گے اور ایسے قوانین کے بنانے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گے جن سے ظلم دور ہو جائے اور اُن کا غریب بھائی آرام سے زندگی بسر کرے تو یہ بات دین اور دنیا دونوں میں اُن کے لئے عزت اور آرام کا موجب ہوگی اور وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سر خرو جاسکیں گے۔ورنہ وہ سمجھ لیں کہ اگر حکومت اسلامی احکام کے ادب سے کوئی جابرانہ قانون نہ بھی بنائے تو بھی خدائی عذاب سے اُن کو دو چار ہونا پڑے گا اور کوئی چیز بھی اس سے اُن کو نہ بچا سکے گی۔اللہ تعالیٰ اُن کو سمجھ عطا فرمائے۔آمین بخارى كتاب مناقب الانصار باب هجرة النبى عله واصحابه الى المدينة السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء صلى الله