انوارالعلوم (جلد 21) — Page 505
انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین افاقہ پالیتا ہے تو وہ ڈاکٹر کا شکر گزار ہوتا ہے اور اگر مر جاتا ہے تو اُس کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ صاحب ! ڈاکٹر نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس کا علاج میرے بس کی بات نہیں۔لیکن اگر ڈاکٹر یہ کہہ کر کام کرتا ہے کہ اس مریض کا علاج میں خوب جانتا ہوں اور ایسے مرض کو میں عمدگی سے دُور کرسکتا ہوں اور پھر اُس کے ہاتھ سے وہ مریض مرجاتا ہے تو سارے لوگ شور مچاتے ہیں کہ یہ بڑا دھو کے باز اور فریبی ہے۔پس یہ تقسیم ایک ایسی ذمہ داری حکومت پر عائد کر دے گی جو آئندہ حکومت کو متواتر مصیبتوں میں مبتلا ر کھے گی۔پنجم : مگر دور جانے کی ضرورت نہیں میں تو کہتا ہوں کہ ابھی سے کمیونزم کے ایجنٹ جو ہمارے ملک میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک نئے رنگ میں ایجی ٹیشن شروع کر دیں گے۔جب قلیل ترین مقدار زمین زمینداروں کے پاس تقسیم کر دی گئی اور یہ تسلیم کر لیا گیا کہ زمیندار کو گزارہ کے قابل رقبہ دینا حکومت کے ذمہ ہے خواہ ملک کے جائز حالات اس کی اجازت دیتے کہ ہوں یا نہ دیتے ہوں تو فوراً کمیونسٹ اس بات سے فائدہ اُٹھا کر زمینداروں میں یہ تحریک شروع کی کر دیں گے کہ دیکھو بھائی ! تمہاری جائیدا داتنی تھوڑی ہے کہ اس کی آمد تمہارے گزارہ کے لئے کافی نہیں اس لئے گورنمنٹ کو چھوٹے زمینداروں سے کوئی معاملہ وصول نہیں کرنا چاہئے۔سب زمیندار ہی چھوٹے ہو جائیں گے اور اُنہیں سمجھانے اور روکنے والا کوئی حصہ اُن کی اپنی قوم کا اُن میں نہیں ہوگا تو لازماًیہ تحریک آگ کی طرح زمینداروں میں پھیل جائے گی اور اس ایجی ٹیشن کا جواب پھر حکومت کے پاس کوئی نہیں ہوگا۔اگر حکومت اس ایجی ٹیشن کے آگے دب جائے گی تب بھی وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دے گی اور اگر نہیں دبے گی تب بھی وہ کی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دے گی۔کیونکہ ۸۰ فیصدی ملک کی آبادی کمیونزم کی گود میں جا پڑے گی۔ہر ایک شخص اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ کمیونسٹ ایجنٹ زمیندار کو آرام نہیں پہنچانا چاہتا۔وہ تو ان باتوں کی جستجو میں رہتا ہے کہ جس سے ملک کے ایک طبقہ میں حکومت کے خلاف جوش پیدا کیا جا سکے۔پس یہ کبھی نہیں ہوگا کہ اس قسم کی اصلاح یا میرے نزدیک خرابی پیدا کرنے کے بعد کمیونسٹ خوش ہو جائیں گے اور گورنمنٹ کے ممنون ہوں گے اور آئندہ اپنی کوششیں چھوڑ دیں