انوارالعلوم (جلد 21) — Page 502
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۰۲ اسلام اور ملکیت زمین امن اور انصاف کے قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ قانون کے بنانے اور قانون کے چلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسان قانون سے امن نہیں پاتا بلکہ انسان اُس صحیح رُوح سے امن پاتا ہے جو قانون کو چلاتی ہے۔اچھے سے اچھا قانون ارادہ اصلاح کے بغیر لعنت بن جاتا ہے اور بُرے سے بُرا قانون اراداہ اصلاح کے ساتھ کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا دیتا ہے۔انجیل میں جو یہ آتا ہے کہ مسیح نے کہا کہ شریعت ایک لعنت ہے تو درحقیقت اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خدا کی شریعت ایک لعنت ہے بلکہ اس کے یہی معنی تھے کہ خدا تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ کر جولوگ دنیا میں اپنے قانون جاری کریں گے وہ انسانوں کے لئے لعنت بن جائیں گے مسیح نے خدائی الہام سے اُس زمانہ کی مسیحی دنیا کا نقشہ معلوم کر لیا اور انہیں نظر آ گیا کہ قانونِ محض کے نام پر حکومت کی جائے گی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔پس انہوں نے کہا کہ قانونی ایک لعنت ہے۔مگر مسیحی آباء نے اُس کا ترجمہ یہ کر دیا کہ شریعت ایک لعنت ہے۔حالانکہ مسیح خود کہتا ہے کہ میں پہلی شریعتوں کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اُن کو قائم کرنے کے لئے آیا ہوں۔اور خود کی کہتا ہے کہ قیامت تک ( یعنی بنی اسرائیل کی رُوحانی قیامت تک جو بعثت محمدیہ کے وقت تک کی مقدرتھی ) شریعت کا ایک شوشہ بھی نہیں بدلے گا۔بعض باتیں جو زمیندارہ کی اصلاح کے متعلق ہیں اُن کو میں اس کے بعد دوسرے باب میں درج کروں گا۔اس جگہ پر میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ :۔اوّل : جو اصلاحات تجویز کی گئی ہیں اُن سے کمیونزم کا خطرہ دُور نہیں ہوگا بلکہ بڑھ جائے گا اور امن قائم نہیں ہوگا بلکہ مٹ جائے گا۔بعض غیر ملک جنہوں نے زمینداری میں اصلاح کی ہے اُن کی نقل ہمارا ملک نہیں کر سکتا اس لئے کہ اُن ملکوں میں زمین زیادہ ہے اور آدمی کم۔بڑی زمیندار یوں کو لوگوں میں تقسیم کرنے کے نتیجہ میں چھوٹے زمینداروں کو اتنی بڑی زمینیں مل گئی ہیں جن سے اُن کا گزارہ چل سکتا ہے لیکن ہمارے ملک میں حالات مختلف ہیں۔مغربی پنجاب میں بڑے زمینداروں کے پاس صرف ۱/۴ فیصدی زمین ہے۔اگر زمین تمام زمینداروں میں برا بر تقسیم کر دی جائے تو کسی صورت میں بھی ایک ایکٹر فی زمیندار سے زیادہ نہیں دی جائے گی اور ظاہر ہے کہ ایک ایکڑ فی فرد پر ہر گز گزارہ نہیں چل سکتا۔آجکل پیداوار کی جو قیمت ہے وہ