انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 17

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۷ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء کے حساب سے لے لیں اور کچھ لوگوں کو زمین مفت بھی دی گئی ہے کیونکہ بعض لوگ اتنے غریب تھے کہ وہ ایک سو روپیہ کنال کے حساب سے بھی زمین نہیں خرید سکتے تھے۔زمین کا سارا رقبہ جو قابل عمارت ہے وہ چار ہزار کنال ہے۔اس میں سے دو ہزار کنال تو ایسی عمارتوں کے لئے ہے جو جماعتی عمارتیں ہیں مثلاً مساجد ہیں، کالج ہے، مقبرے ہیں ، عید گاہ ہے، دفاتر ہیں، ہسپتال ہے۔ان پر نصف کے قریب زمین خرچ ہو جائے گی۔باقی دو ہزار کنال زمین رہ جاتی ہے اب اگر اس دو ہزار کنال زمین کو سو روپیہ فی کنال کے حساب سے بیچیں تو صرف دو لاکھ روپیہ مل سکتا ہے چھپیں لاکھ روپیہ نہیں مل سکتا اور اگر یہ زمین پانچ سو روپیہ فی کنال کی اوسط پر ی پکے تو دس لاکھ روپیہ مل سکتا ہے لیکن اگر صحیح طور پر بھی خرچ کیا جائے تو نیا قصبہ بنانے پر کم سے کم ۲۵ لاکھ روپیہ صرف ہونا چاہئے۔ہم نے کچی عمارتیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے تب بھی ہمارا خرچ کا اندازہ ۱۳ لاکھ روپیہ ہے اور یہ صاف بات ہے کہ اگر زمین ۵۰۰ سو روپیہ فی کنال کے حساب سے پکے تب بھی اس سے ۱۳ لاکھ روپیہ نہیں آسکتا۔اگر اوسط قیمت چھ سو روپیہ فی کنال ہو پھر کہیں ۱۲ لاکھ روپیہ آ سکتا ہے اور اگر ساڑھے چھ سو روپیہ فی کنال ہو تو پھر تیرہ لاکھ روپیہ آ سکتا ہے۔اب چونکہ قریباً ایک ہزار کنال تو ایک سو روپیہ فی کنال کے نرخ پر ہی پک گئی ہے اس لئے اس کے یہ معنی ہیں کہ باقی زمین کی قیمت اتنی بڑھائی جائے کہ دس بارہ لاکھ روپیل جائے اور یہ روپیہ آ نہیں سکتا جب تک کہ زمین ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے نہ پکے۔ہمارے لئے اس وقت دو ہی راستے ہیں یا تو یہ کہ یہ رقم ہم خریداروں سے لیں اور یا یہ کہ بطور چندہ جماعت سے اکٹھی کریں۔اب یہ صاف بات ہے کہ باقی لوگوں کے لئے کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اس کے لئے چندہ دیں۔وہ لوگ کہیں گے کہ یہ چیزیں تو مقامی ضرورتوں کیلئے ہیں تب ہم وہاں نہیں رہتے تو ہم چندہ کیوں دیں۔بے شک ایسے مخلص لوگ بھی ہونگے جو چندہ دیں گے مگر اخلاقی طور پر وہ اس سوال کا حق رکھتے ہیں کہ وہ کیوں چندہ دیں۔بہر حال اخراجات کا بیشتر حصہ انہی لوگوں پر پڑے گا جو وہاں آباد ہو نگے اور یہ اسی طرح ہی ہو سکتا ہے کہ زمین کی قیمت پانچ سو ، سات سو ، ایک ہزار بلکہ ڈیڑھ ہزار روپیہ فی کنال کر دی جائے۔پس جن لوگوں نے وہاں مکانات بنانے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بحث چھوڑیں اور جلدی سے رقبہ