انوارالعلوم (جلد 21) — Page 445
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۵ اسلام اور ملکیت زمین جس زمین پر آباد کیا گیا ہے وہ دوسرے لوگوں کی ملکیت تھی اور حکومت نے ضبط کی تھی اور اس کی کی کی مناسب قیمت ادا نہیں کی تھی تو آپ نے اپنی وفات کے وقت یہ وصیت کی کہ جو قبرستان اس کی زمین میں واقع ہے مجھے اُس میں دفن نہ کیا جائے کیونکہ میں اُس زمین میں دفن ہونا نا جائز سمجھتا کی ہوں جو بغیر مناسب قیمت دینے کے حکومت نے ضبط کر لی ہو۔چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو بغداد کے قبرستان سے باہر کے علاقہ میں دفن کیا گیا۔آپ کے وقت کا خلیفہ منصور عباسی خود بھی آپ کا جنازہ پڑھنے کیلئے گیا اور اُس نے آپ کا جنازہ پڑھا۔جب بعد میں اُسے آپ کی وصیت سنائی گئی تو اُس نے جھنجھلا کر کہا کہ اس شخص نے زندگی میں بھی مجھے ستایا اور مرتے ہوئے بھی مجھے دکھ دے گیا۔۲۶ اسی طرح امام ابو یوسف جو امام ابو حنیفہ کے چوٹی کے شاگر د سمجھے جاتے تھے اور سب سے پہلے شیخ الاسلام تھے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ جو زمین بھی سواد کے علاقہ ( یعنی عراق ) میں سے خلفائے اربعہ نے کسی کو دی ہو بعد میں آنے والے خلفاء میں سے کسی کا حق نہیں کہ اُس زمین کو واپس لے سکے یا اُس شخص سے واپس لے سکے جس نے اُس کو خریدا ہو یا اُس کو ورثہ میں پایا ہی ہو۔اور جو زمین اس طرح بادشاہ کسی کے ہاتھ سے لے کر کسی اور کو دے دے اُس کی حالت ویسی ہی ہو گی جیسے کوئی شخص ایک کا حق پر الیتا ہے اور دوسرے کو دے دیتا ہے اور یہ بات کسی بادشاہ کے لئے جائز نہیں۔اسی طرح کسی بادشاہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایک مسلمان سے کوئی چیز لے کر دوسرے مسلمان کو دے دے۔اور نہ یہ جائز ہے کہ کسی غیر مسلم رعایا سے کوئی چیز چھین کر کسی دوسرے کو دے دے۔اور کوئی چیز کسی کے ہاتھ سے بغیر حق کے نہیں لی جاسکتی ۷ اور حق کی تعریف علماء نے یہ کی ہے کہ جو چیز ورثہ سے ملے یا ہبہ سے ملے یا خریدی جائے یا وقف کی صورت میں کوئی چیز کسی کے سپرد کی جائے یا نص احکام شرعیہ کے ماتحت اُس پر قبضہ کیا جائے۔جیسے زکوۃ ، محشر یالا وارثی وغیرہ۔ان پانچ صورتوں کے علاوہ کوئی چیز کسی شخص سے دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہو سکتی۔