انوارالعلوم (جلد 21) — Page 423
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۳ اسلام اور ملکیت زمین آسمانی شہادتوں سے اس فیصلہ کی سچائی کو ثابت کر دیا۔اکثر حصہ مسلمانوں کا اسامہ بن زیڈ کے ماتحت شام کی جنگ کے لئے بھجوا دیا گیا تھا اور مٹھی بھر صحابہ باقی رہ گئے تھے۔دشمن اتنی تعداد میں تھا اور اتنا طاقتور تھا کہ باقی ماندہ صحابہ ان کے اونٹوں کے پاؤں تلے روندے جا سکتے تھے لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی ، اُسی طرح ان ایام میں اُس کی نے حضرت ابو بکر کی بھی مدد کی۔اس لئے کہ ابو بکر ایک ایسے مسئلہ کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے جو اسلام کے پانچ ارکان میں شامل ہے اور خدا تعالیٰ نے صحابہ کو وہ قوت باز و بخشی اور کی وہ عزم عطا فرمایا کہ باوجود اس کے کہ بعض دفعہ ہزاروں ہزار آدمی کے لشکر کے سامنے وہ پہاڑی کنکروں کی طرح ادھر اُدھر بکھر جاتے تھے مگر پھر ان کے قدم مضبوط ہو جاتے تھے ، ان کو پھر اکٹھا ہو جانے کی توفیق مل جاتی تھی اور شیروں کی طرح وہ دشمنوں کے ٹڈی دل لشکروں پر پھر جا پڑتے تھے۔جہاں تک لشکروں کا سوال ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اتنی کم تعداد کے صحابہ کو اتنے بڑے لشکروں کا مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن نہ صحابہ نے اس کمی کو محسوس کیا اور نہ خدا تعالیٰ نے اس کمی کے بد نتائج پیدا ہونے دیئے۔آخر مدینہ سے چند منزل کے فاصلہ پر سب سے بڑے باغی لشکر کو جس میں بعض روایتوں کے مطابق کوئی ایک لاکھ کے قریب سپاہی تھا ، صرف دو ہزار صحابہ نے شکست دی۔وہ دانوں کی طرح بھن گئے ، وہ قیمے کی طرح اُڑ گئے لیکن اُن کا قدم پیچھے نہ ہٹا اور اُسی وقت اُن کی تلوار میں ٹھہریں جبکہ مسیلمہ کذاب مارا گیا اور باقی لشکر تتر بتر ہو گیا۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ آسمان سے خدا تعالیٰ نے کہا کہ جو کچھ ابو بکڑ نے کیا ٹھیک کیا۔اگر زکوۃ کا معاف کرنا کسی حکومت کے اختیار میں ہوتا تو ایسے نازک حالات میں ابو بکر نضر ور ز کو ة ا معاف کر دیتے۔لیکن اُنہوں نے زکوۃ معاف نہیں کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر دشمن مسلمانوں پر غالب آ کر مدینہ میں گھس آئے اور ازواج النبی کی لاشوں کی ٹانگیں پکڑ کر کتے مدینہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھریں تب بھی وہ زکوۃ معاف نہیں کریں گے۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ کوئی حکومت خواہ مذہبی ہو یا سیاسی اِس چیز کو معاف نہیں کر سکتی۔میں حیران ہوں کہ مسلمانوں میں یہ جہالت کس طرح آگئی کہ انہوں نے عشر اور خراج معاف کرنے شروع کر دیئے اور