انوارالعلوم (جلد 21) — Page 422
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۲ اسلام اور ملکیت زمین کس طرح ؟ اگر ایسا کیا جائے تو اسلامی نظام درہم برہم ہو جائے گا لیکن تو مسلم قبائیلیوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور اُنہوں نے اصرار کیا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان کو جاگیر دار سمجھ لیا جائے۔جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے حکام کے نام ہدا یتیں جاری کی گئیں کہ زکوۃ با قاعدہ وصول کی جائے اور کسی کو معاف نہ کی جائے تو ملک نے بیک وقت بغاوت کر دی اور مختلف قبائل مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے اپنے گھروں سے روانہ ہو گئے۔یہ وقت اسلام کے لئے نہایت نازک تھا۔سوائے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ اور ایک دو اور ایسی جگہوں کے تمام کا تمام عرب باغی ہو گیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا بہا در آدمی بھی اس موقع پر گھبرا گیا اور انہوں نے دوسرے صحابہ سے مشورہ کر کے حضرت ابو بکڑ سے یہ درخواست کی کہ سر دست لوگوں کو زکوۃ معاف کر دی جائے۔آہستہ آہستہ جب یہ لوگ اسلام میں پکے ہو جائیں گے تو آپ ہی آپ زکوۃ دینے لگ جائیں گے اور ساتھ ہی اُنہوں نے کہا کہ مدینہ کے چند ہزار آدمی سارے عرب کا مقابلہ کر ہی کس طرح سکتے ہیں۔بیس بیس ہزار کا لشکر ایک ایک طرف سے چلا آ رہا ہے اگر یہ لوگ مدینہ تک پہنچ گئے تو مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی ساری بات سن کر فر ما یا عمر از کوه خدا کا حق ہے میں اسے معاف کرنے کی طاقت نہیں پاتا۔خدا کی قسم ! میں خدا کے اس حق کے لینے کے لئے لڑوں گا اور اگر صحابہ بھی میرا ساتھ چھوڑ دیں تو میں اکیلا ان لوگوں سے جنگ کروں گا۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ مدینہ میں گھس آئیں اور ازواج نبی کی لاشیں گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھر میں تب بھی میں ان لوگوں سے نہیں ڈروں گا اور اُس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھوں گا جب تک کہ زکوۃ کی وہ چھوٹی رہتی جو اونٹ کا گھٹنا باندھنے کے کام آتی ہے اور جسے یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ادا کرتے تھے اب بھی ادا نہ کریں گے۔۳۲ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ یہ باتیں سن کر میرا دل دہل گیا اور میں نے سمجھا کہ واقعہ میں یہی شخص اس بات کا مستحق تھا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد اسلام کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دی جاتی۔صلى الله یہ وہ فیصلہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام کے پہلے خلیفہ نے کیا اور صحابہ با وجود خطرات کو دیکھنے کے اس فیصلہ کو ماننے پر مجبور ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے بھی