انوارالعلوم (جلد 21) — Page 418
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۸ اسلام اور ملکیت زمین دوسری صورت خرید کی ہے۔خرید کا ثبوت بھی صحابہ کے طریق سے ثابت ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد اور اپنے مکانوں کے لئے مدینہ کے لوگوں سے زمین خریدی۔یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے۔مدینہ میں ان لوگوں کی کوئی جائدادیں نہیں تھیں۔مدینہ میں جا کر جو ان لوگوں نے گھر بنائے وہ وہیں کے لوگوں سے زمینیں خرید کر بنائے تھے۔چنانچہ یہ مشہور حدیث کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ عرصہ تک مدینہ کے باہر ٹھہر کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا جہاں میری اونٹنی ٹھہرے گی وہاں میں اپنا گھر بناؤں گا۔مدینہ کے لوگوں نے اپنے گھروں میں سے نکل نکل کر اصرار کیا کہ اُن کے گھروں میں آپ ٹھہریں مگر آپ کی نے اسے تسلیم نہ کیا۔آخر جس جگہ پر آپ کی اونٹنی ٹھہری اُس جگہ کو آپ نے مسجد کے لئے اور اپنے مکانوں کے لئے پسند فرمایا۔وہ دو قیموں کی زمین تھی یتیموں کے وارثوں نے وہ زمین مفت دینی چاہی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند نہ فرمایا بلکہ فرمایا کہ واجبی قیمت پر اس کو فروخت کر دو۔۳۰ے اس جگہ پر بعد میں مسجد اور آپ کے اہلِ بیت کے گھر بنے۔پس زمین کی بیع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے عمل اور طریق سے ثابت ہے۔تیسرا طریقہ ملکیت کا ہبہ ہے یعنی کوئی شخص کسی شخص کو یا کسی قوم کو یا کسی جماعت کو اپنا مال کے طور پر بخش دے تب اُس شخص کو یا اُس گروہ کو اُس زمین پر اُس حد تک مالکانہ حقوق حاصل ہونگے جس حد تک کہ ہبہ کرنے والے شخص نے ان کو حق دیا ہے۔اگر اُس نے پورے مالکانہ حقوق بخش دیئے ہیں تو جو حق کسی کامل مالک کو حاصل ہوتے ہیں وہ سب اُن لوگوں کو حاصل ہونگے جن کے نام زمین ہبہ کی گئی ہے اور اگر کسی شرط کے ساتھ ملکیت منتقل کی گئی ہو تو کی جس حد تک پابندی لگائی گئی ہے اس کے بعد باقی حق اُن کو حاصل ہونگے۔اس قسم کے ہے احادیث سے دونوں طرح کے ثابت ہیں۔بے شرط بھی اور شرط کے ساتھ بھی۔بے شرط ہبہ کی مثال وہ زمینیں ہیں جو قرآنی حکم کے ماتحت مالِ غنیمت کے طور پر صحابہ میں تقسیم کی گئیں جس کی مشہور مثال خیبر کی زمین ہے۔اس کے علاوہ انفرادی مثالیں بھی بہت سی پائی جاتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی زمینوں میں سے جو فوری طور پر صحابہ میں تقسیم نہیں کی گئیں