انوارالعلوم (جلد 21) — Page 409
انوار العلوم جلد ۲۱ دوسرا باب ۴۰۹ اسلام اور ملکیت زمین کیا زمین کو اسلام نے فرد واحد کی ملکیت اُن معنوں میں قرار دیا ہے جن معنوں میں کہ دوسری چیزوں کی ملکیت ہوتی ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو آیات اوپر لکھی گئی ہیں ان میں زمین اور غیر زمین میں کوئی تج فرق نہیں کیا گیا۔ان آیات میں صاف بتا دیا گیا ہے کہ ہر چیز خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اس لئے ہر مخلوق خدا تعالیٰ کی ملک ہے۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ زمین کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے بخشی ہے۔اوپر کی آیت میں جو ارض کا لفظ ہے اُس سے مراد کھیتی نہیں بلکہ کرہ ارض ہے اور اُس میں سے نکلی ہوئی چیز کے معنی سبزی، تر کاری یا غلہ نہیں بلکہ کرہ ارض کے اوپر یا نیچے ہر ایسی چیز جس پر انسان قبضہ کر سکتا ہے مراد ہے۔بلکہ اس زمین سے نکلی ہوئی چیزوں سے جو چیز آگے بنائی جائے وہ بھی مراد ہے کیونکہ کسی کی دی ہوئی لکڑی سے کسی کے دیئے ہوئے ہتھیاروں کی مدد سے، کسی کے دیئے ہوئے ہاتھ اور دماغ کے ذریعہ سے جو چیز بنے گی اُس کا مالک بھی وہی ہوگا جس کی لکڑی تھی ، جس کے ہتھیار تھے ، جس نے ہاتھ اور دماغ بنایا تھا۔پس خدا تعالیٰ صرف کھیتوں ہی کا مالک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی روٹی کا بھی مالک ہے، لکڑی کا بھی مالک ہے ، لوہے کا بھی مالک ہے، جڑی بوٹیوں کا بھی مالک ہے ، جنگل کے پتھروں کا بھی مالک ہے، اُس کی ریت کا بھی مالک ہے اور جب اُس نے ان چیزوں کی ملکیت تمام بنی نوع انسان کو مشترکہ طور پر عطا فرمائی تو صرف کھیتوں ہی کی ملکیت تمام انسانوں کو عطا نہیں فرمائی بلکہ دریاؤں کی ملکیت بھی تمام بنی نوع انسان کو عطا فرمائی۔پہاڑوں اور اُن کی برفوں اور اُن کے درختوں اور اُن کے پھولوں اور اُن کی بوٹیوں اور اُن کے اندر