انوارالعلوم (جلد 21) — Page 406
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۶ اسلام اور ملکیت زمین گم شدہ بکری مجھے مل جائے تو اُس کے بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا۔تو اُسے اپنے قبضہ میں لے لے کیونکہ یا تو وہ تیرے ہاتھ آئے گی یا تیرے کسی بھائی کے ہاتھ میں آئے گی یا کسی بھیڑیے کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! اگر کوئی گم شدہ اونٹ مجھے مل جائے تو اس کے بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تیرا اونٹ سے کیا واسطہ۔اُس کا پانی اُس کے پاس ہے اور اُس کی ٹانگیں بھی موجود ہیں وہ پانی پی کر اور درختوں کے پتے وغیرہ کھا کر زندہ رہ سکتا ہے یہاں تک کہ اُس کا مالک اُسے ڈھونڈ لے۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زمین کے علاوہ دوسری اشیاء کے لئے بھی یہی قاعدہ ہے کہ جس چیز کا مالک کوئی نہ ہو وہ جسے ملے اُس پر قبضہ کر سکتا ہے بشرطیکہ پہلے مناسب جگہوں پر اعلان کی کر دے لیکن وہ اشیاء جو خود اپنی فکر کر سکتی ہیں اُن پر قبضہ کرنا خواہ اُن کا مالک نظر نہ آتا ہو جائز ہیں۔چنانچہ جب اُس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! اگر مجھے ایک اونٹ نظر آئے جس کا مالک پاس نہ ہو تو کیا میں اُس پر قبضہ کرلوں؟ تو آپ نے فرمایا اُس کا کھانا ( جنگل کے کانٹے ) اور اُس کا پانی اُس کے پاس ہے پھر تجھے اُس سے کیا کی کام۔یعنی یہ حکم تو ان اشیاء کے بارہ میں ہے جن کے ضائع ہو جانے کا ڈر ہے اگر مالک اُن کا ی وقت پر نہ پہنچے گا تو وہ ضرور ضائع ہو جائیں گی اس لئے جس کو مل جائیں وہ اُن پر قبضہ کر لے۔اگر اُن کو کچھ عرصہ تک سنبھال کر رکھا جا سکتا ہو تو سنبھال کر رکھا جائے اور اُن کے بارہ میں اعلان کیا جائے اگر پھر بھی مالک نہ ملے تو اپنے کام میں لایا جائے۔اگر سنبھال کر نہ رکھا جا سکے مثلاً سڑنے والی اشیاء تو اس بات کی تسلی ہو جانے پر کہ اُن کا مالک کہیں چلا گیا ہے اُن کو استعمال کر لیا جائے۔ظاہر ہے کہ زمین ان چیزوں میں سے نہیں کہ اس کا ضائع ہونے کا ڈر ہواس لئے اس کے بارہ میں وہی قانون جاری ہو گا جو اونٹ کے بارہ میں ہے کہ جب اونٹ خودا اپنی حفاظت کر سکتا ہے تو مالک کا پاس نہ ہونا دوسرے کو اُس پر قبضہ کر لینے کا حق نہیں دیتا۔ہاں چونکہ اس کے بیکار پڑا رہنے سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے حکومت کو حق ہے کہ مالک کو نوٹس دے کہ زمین کو آباد کرے۔اگر وہ پھر بھی آباد نہ کرے تو وہ اُسے دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دے۔گو میرے نزدیک اُس وقت بھی حکومت کا فرض ہوگا کہ اُس کی مناسب قیمت مالک کو دے یا کوئی