انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 397

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۷ اسلام اور ملکیت زمین قرآن کریم کا کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا آپ تو رات کے بتائے ہوئے طریق اور انبیائے سابق کے عمل کی اتباع فرمایا کرتے تھے۔مثلاً قبلہ کا مشہور مسئلہ ہے۔جب تک قبلہ کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔آپ خانہ کعبہ کی اُس سمت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے جس سمت میں خانہ کعبہ بھی آپ کے سامنے آجاتا تھا اور بیت المقدس کی مسجد بھی آپ کے سامنے آجاتی تھی۔اس ذریعہ سے آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر بھی عمل کر لیتے تھے اور بنی اسرائیل کے انبیاء کی سنت پر بھی عمل کر لیتے تھے۔جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو چونکہ مدینہ منورہ بیت المقدس اور مکہ مکرمہ کے درمیان میں ہے اور دونوں طرف ایک ہی وقت میں منہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے آخری زمانہ کے انبیاء کا احترام کرتے ہوئے آپ نے بیت المقدس کی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی لیکن بعد میں قرآن کریم میں قبلہ کا حکم نازل ہو گیا اور پھر آپ نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کر دی ہے اسی طرح اور بہت سے مسائل ملتے ہیں جن میں رسول کریم ﷺ نے احکام قرآنیہ کے نزول سے پہلے بنی اسرائیل کے انبیاء کے طریق کو اختیار کئے رکھا اور تاریخ اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ بالا رادہ یہ کام کرتے تھے۔پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم ہے کہ جہاں اور جب تک کوئی نص نہ ملے پُرانے انبیاء کے طریق کو اختیار کر لیا کرو تو کیا یہ بات خیال میں آسکتی ہے کہ اگر بالفرض کوئی نص قرآن کریم میں موجود نہیں تو ایک مسلمان کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنی عقل سے اپنے لئے رستہ تجویز کرے اور رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے طریق عمل کو نہ دیکھے۔خدا تعالیٰ نے اپنی فرمانبرداری اور اطاعت کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت بھی واجب کی ہے اور میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے تھے وہ کلی طور پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت کرتے تھے لیکن فرض کرو کسی کا یہ عقیدہ نہیں تو بھی اُس کو یہ ماننا پڑے گا کہ اگر کسی معاملہ میں اُس کو قرآنی ہدایت نہیں ملتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور آپ کے ارشاد میں سے اسے اسلام کی اصولی تعلیم کا صحیح مفہوم ملے گا۔اس تمہید کے بعد جاگیرداری اور زمینداری کے متعلق جو مختلف سوال پیدا ہو سکتے ہیں یا ہوئے ہیں ان کے متعلق میں قرآن کریم اور حدیث اور ائمہ اسلام کی