انوارالعلوم (جلد 21) — Page 390
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۰ اسلام اور ملکیت زمین میں داخل ہوئے لیکن مجبوری سے یا خوشی سے ایک دو سال کے بعد وہ پھر اس سے الگ ہو گئے۔ان حالات کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو کانگرس حقیقی طور پر ایک سیاسی تحریک بن چکی تھی مگر چونکہ اُس میں ایک بہت بڑی اکثریت ہندوؤں کی تھی ہندو مذہبی رہنماؤں نے اس کو اپنا آلہ کار بنانا آسان امر سمجھا اور ایسے لوگ بھی کانگرس میں شامل ہو گئے جو حقیقتاً سیاسی نقطہ نگاہ نہیں رکھتے تھے بلکہ مذہبی یا نسلی نقطۂ نگاہ رکھتے تھے۔حقیقی سیاسی نقطہ نگاہ رکھنے والے ہندوؤں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس دوسرے گروہ کی نجی گفتگوؤں کو سن سن کر مسلمان چوکنے ہو گئے۔انہوں نے اپنی ایک الگ انجمن بنالی جو مسلم لیگ کہلائی۔مسلم لیگ کی بنیادی ضرورت صرف اتنی تھی کہ ہندوستان کی ی طاقت پکڑنے والی سیاسی انجمنوں کی کوششوں کے نتیجہ میں ہندوستان کی سیاسی طاقت ہندوؤں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔اُن ہندو کہلانے والے لوگوں کے ہاتھ میں نہیں جو درحقیقت سیاسی تربیت رکھنے کی وجہ سے ہندوستانی ہیں ہندو نہیں بلکہ اُن ہندوؤں کے ہاتھ میں جو پس پردہ کی کانگرس پر اپنا جال ڈال رہے ہیں اور آہستہ آہستہ کانگرس کو اپنا آلہ کار بنا کر اپنی سکیم کو ملک میں جاری کرنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ کانگرس کی طرح مسلم لیگ کا بھی کوئی معتین سیاسی پروگرام نہیں ہوسکتا تھا۔کانگرس کا سیاسی پروگرام یہ تھا کہ ہندوستانیوں کے ہاتھ میں اختیارات آجائیں۔ابتدائے کار میں اس کو اس سے غرض نہ تھی کہ اختیار کن کے ہاتھ میں آئے ، قدیم الخیال لوگوں کے ہاتھ میں یا آزاد خیال لوگوں کے ہاتھ میں یا سوشلسٹ لوگوں کے ہاتھ میں یا کمیونسٹ لوگوں کے ہاتھ میں، اُس کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ملک آزاد ہو۔پھر جو طاقتور ہو ا ختیارات کی سنبھال لے۔مسلم لیگ کا بھی کوئی سیاسی پروگرام نہیں تھا۔مسلم لیگ کی غرض بھی یہی تھی کہ جب ملک میں طاقت آئے تو مسلمان کو بھی اُس کا حصہ ملے۔ہندوستانی سے مراد ہندو نہ ہو بلکہ اُسی طرح مسلمان مراد ہو جس طرح ہندو مراد ہو۔باقی رہا سیاسی پروگرام سو مسلمانوں میں سے جو طاقت اُس وقت غالب ہو وہ اختیارات کو سنبھال لے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے ملک کا اصلی نظریہ مذہبی ہے اس لئے لازمی نتیجہ ان تحریکوں کا یہ ہوا کہ ہندوستانی کی تعریف ہندو سے بدلتی چلی گئی اور مسلم کی جگہ پر اسلام آگے آتا چلا گیا۔حقیقتا تو مذہب آگے نہیں آیا لیکن مذہب کو حالات نے آگے دھکیل دیا۔مجھے اس سے سروکار نہیں کہ اس تحریک کے نتیجہ