انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 385

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۵ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی کے معنی کیا ہیں ہمیں دو تین سال کے لئے دو تین لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور اس کے بعد بھی کچھ رقم کی ضرورت ہوگی اور یہ رقم ہم دوسرے چندوں سے نہیں بچا سکتے۔حفاظت مرکز کے چندہ کے تیرہ لاکھ کے وعدے تھے اور اب جماعت کچھ بڑھ بھی گئی ہے اس لئے شاید یہ وعدے پندرہ لاکھ تک پہنچ چکے ہوں گے بہر حال نادہندگان پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انہیں چاہیے کہ استغفار کریں اور اپنی غفلتوں کو دور کریں لیکن اگر اُنہوں نے اپنی غفلتوں کو دور نہ کیا تو ان دوستوں سے جو اپنے وعدے ادا کر چکے ہیں میں کہوں گا کہ اگر یہ لوگ نہ جاگیں تو کیا وہ تیار ہیں کہ میں دوبارہ تحریک کروں اور وہ چند دیں؟ اس پر سب وعدہ پورا کرنے والوں نے بیک آواز کہا کہ حضور ہم تیار ہیں۔) (آخر میں حضور نے فرمایا:) اب میں ان لوگوں سے جنہوں نے چندہ ادا نہیں کیا کہتا ہوں کہ آپ اپنے بقایا اگلے چھ ماہ میں ادا کر دیں۔مشرقی پنجاب سے آنے والوں میں سے جنہیں کام مل گئے ہیں یا جائیدادیں مل گئی ہیں اور اب وہ اس قابل ہیں کہ چندہ ادا کر سکیں وہ بھی اس میں شامل ہیں۔اگر اس مدت کے اندر انہوں نے اپنا چندہ ادا نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ خدا کے مقرر کردہ مرکز سے انہیں کوئی چی محبت نہیں پھر میں دوبارہ تحریک کروں گا جس میں ان لوگوں کے لئے حصہ لینا قطعاً نا جائز ہوگا۔اور میں جماعت پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ اپنا فرض ادا کر چکے ہیں وہ یقیناً ایک بار پھر یہ ثابت کر دیں گے کہ دنیا میں جہاں فرض ادا نہ کرنے والے لوگ ہیں وہاں اپنے فرض کو ادا کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔(از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) قل هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين (التوبة: ۵۲) بخارى كتاب الجمعة باب الانصات يوم الجمعة (الخ) بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق والسخاء (الخ) سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۷۸-۲۷۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء مسلم کتاب الفتن باب ذكر الدجال (الخ)