انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 379

انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی میرے ساتوں بچے اپنے ملک کے لئے ہی مارے گئے ہیں۔دیکھو! وہ بڑھیا ۰ ۸ سال کی تھی مگر اُس کے اندر یہ احساس تھا کہ آخر ہوا کیا ، میرے بچے مُلک کی خدمت کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔اُس کے بچے تو ملک کے لئے مارے گئے تھے اور وہ ملک بچا نہیں لیکن اگر مسلمان مارے گئے ہیں تو انہیں ایک مملک بھی تو مل گیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے تمہیں غلامی سے آزاد کر دیا، تمہیں تو اپنی تکلیفوں کا خیال بھی نہیں کرنا چاہیے۔میں اوروں کو تو نہیں کہہ سکتا ہاں احمدیوں سے یہ کہتا ہوں کہ یہ خیال چھوڑ دو کہ تم لئے ہوئے ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن مہاجرین پر افسوس کیا کرتے تھے جو وطن اور جائدادوں کے چھوٹ جانے پر افسوس کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے اُس وقت مدینہ کا نام یثرب ہوا کرتا تھا اور وہاں ملیر یا کثرت سے ہوتا تھا۔ملیریا پھیلنا شروع ہوا تو مہاجرین کو بخار چڑھے ادھر وطن کی جدائی کا صدمہ تھا ان میں سے بعض نے رونا اور چلانا شروع کر دیا کہ ہائے مکہ ہائے مکہ۔ایک دن حضرت بلال کو بھی بخار ہو گیا اُنہوں نے شعر بنا بنا کر شور مچانا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ خفا ہوئے اور فرمایا کیا تم ایسے کام کے لئے یہاں آئے ہو؟ 19 میں بھی تمہیں یہی کہتا ہوں کہ خوش رہو۔تم یہ نہ دیکھو کہ ہم نے کیا کھویا ہے تم یہ دیکھو کہ ہم نے کس کے لئے کھویا ہے۔اگر تم نے جو ی کچھ کھویا ہے وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور اسلام کی ترقی کے لئے کھویا ہے تو تم خوش رہو اور کسی موقع پر بھی اپنی کمریں خم نہ ہونے دو۔تمہارے چہرے افسردہ نہ ہوں بلکہ اُن پر خوشی کے آثار پائے جائیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک مسلمان ایسی حالت میں چلے آ رہے تھے کہ اُنہوں نے گردن نیچے ڈالی ہوئی تھی حضرت عمر نے اُن کی ٹھوڑی پر مکہ مارا اور کہا اسلام کی فتوحات کا زمانہ ہے اور تم اپنی گردن جھکائے پھر رہے ہو! خدا تعالیٰ نے اس وقت اسلام کو حکومت دی ہے دنیا جو چاہے کہے مگر تم تو یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہوگی۔اگر تم یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہوگی تو کی پھر رونا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی ایک