انوارالعلوم (جلد 21) — Page 355
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۵ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی ہو رہا تھا اُس میں وہ موجود تھے۔پھر اُنہوں نے چاہا کہ میں اس بارہ میں مشورہ دے دوں اور پھر میرا دل بھی اُن کا مشورہ ماننے پر راضی ہو گیا۔یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہوا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از وقت اس جگہ کی خبر دی ہے۔اگر یہ مقام اسلام کی سکیم کا حصہ نہیں تھا تو آپ نے قبل از وقت اس جگہ کا ذکر کیوں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کتنے واقعات رونما ہوئے ہیں مگر اُن میں سے ہزاروں واقعات کا آپ نے ذکر نہیں کیا لیکن اس کا ذکر موجود ہے کہ مسیح موعود کی پہلے دجال سے لڑائی ہوگی ، اس کے بعد یا جوج اور ماجوج دو قو میں نکلیں گی اور وہ ایسی طاقتور ہوں گی کہ ان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکے گا ، اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے آواز آئے گی کہ جاؤ پہاڑ پر چلے جاؤ وہاں تمہیں پناہ ملے گی۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ یہ جگہ خود اتنی اونچی ہے کہ پہاڑ معلوم ہوتی ہے جب ہم یہ جگہ دیکھنے کے لئے آئے تو احمد نگر چلے گئے تا کہ اس زمین کے حالات دریافت کئے جائیں۔پانی کی۔کے متعلق پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ دو دفعہ بعض لوگوں نے کوشش کی ہے کہ اس مقام کو آباد کیا جائے لیکن وہ ناکام ہوئے اور بھاگ گئے۔پھر ہم نے پوچھا کہ کیا دریا میں کبھی سیلاب بھی آتا ہے ہے؟ تو بتایا گیا ہاں سیلاب آتا ہے اور ہماری فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ہم نے دریافت کیا کہ کیا سیلاب کا پانی اس جگہ پر بھی آجاتا ہے؟ تو گاؤں کے نمبر دار نے جس سے ہم حالات دریافت کر رہے تھے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اگر اس کے سر تک پانی پہنچ جائے تو شاید کی اُس جگہ بھی پانی چڑھ جائے۔غرض یہ اونچی جگہ ہے جس کی وجہ سے اس کا نام ”ربوہ“ رکھا گیا ہے اور خدائی تصرف کے ماتحت ہم یہاں لائے گئے ہیں۔باقی یہ کہ خدا تعالیٰ نے اس کی حقیقت کو کب کھولنا شروع کیا ہے سو یا د رکھنا چاہیے کہ خدائی سکیمیں آہستہ آہستہ کھلتی ہیں۔مکہ مکرمہ کی بنیاد کے وقت کس شخص کو علم تھا کہ واقع میں یہ اتنا بڑا شہر بن جائے گا اور دنیا کی ہر نعمت یہاں میسر ہو سکے گی لیکن وہی کچھ ظہور میں آیا جس کا پہلے علم دیا گیا تھا۔بعض لوگ اس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم قادیان کے بے وفا ہیں کیونکہ ہم نے دوسرا مرکز بنا لیا ہے۔وہ نادان ہیں وہ نہیں جانتے کہ گو ہم قادیان کے وفادار