انوارالعلوم (جلد 21) — Page 313
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۱۳ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح آپ کا نفس آپ کو دھوکا نہ دے۔ایک نماز لوگوں نے ایسی بنالی ہے جس سے وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کہ اب ہمیں تمام نمازوں سے چھٹی مل گئی ہے۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں ایک ملا تھا اس نے کہیں یہ بات پڑھ لی کہ جب کسی کو کوئی ایسی چیز مل جائے جو آوارہ پھر رہی ہو اور جس کی حفاظت نہ ہوسکتی ہو تو تین دفعہ اعلان کرنے کے بعد وہ اُس چیز کو اپنے قبضہ میں لے لے۔یہ بات پڑھنے کے بعد اُس نے یہ طریق بنا لیا کہ جہاں کوئی ریوڑ بکریوں یا بھیڑوں کا جا رہا ہوتا وہ اُس کے پیچھے چل پڑتا اور جب کوئی بکری یا بھیڑ کا بچہ پیچھے رہ جاتا تو وہ اُسے پکڑ لیتا اور جب دیکھتا کہ گلہ بان دُور نکل گیا ہے تو زور سے آواز دیتا کسی کی اور پھر نہایت دبی 66 زبان سے کہتا ” بکری۔اس طرح تین دفعہ وہ اعلان کر دیتا اور پھر بکری پکڑ کر گھر میں لے آتا اور وہ سمجھتا کہ اب اس پر میرا قبضہ جائز ہو گیا ہے۔اسی طرح بعض لوگوں نے ایک طرف دین کا احترام قائم رکھنے کے لئے اور دوسری طرف نمازوں سے چھٹی حاصل کرنے کے لئے ایک جمعہ کا نام جمعۃ الوداع رکھا ہوا ہے۔جو رمضان کا آخری جمعہ ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو شخص جمعۃ الوداع میں آکر شامل ہو گیا اور اُس نے نماز پڑھ لی اُس نے سارے سال کی نمازیں پڑھ لیں۔اس نماز کو وہ قضاء عمری کہتے ہیں یعنی عمر بھر کی نمازیں اس ایک نماز کے پڑھنے سے معاف ہو جاتی ہیں۔اسی طرح اُنہوں نے ایک دعائے گنج العرش بنائی ہوئی ہے جس پر یہ لکھا ہوا ہے کی کہ جو شخص ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اسے پڑھ لے اسے آج تک جتنے بنی دنیا میں گزرے ہیں کہ اور جتنی نیکیاں اُنہوں نے کی ہیں ان سب نبیوں کی نیکیوں جتنا ثواب مل جاتا ہے۔اور جتنے کی بد معاش دنیا میں آج تک گزرے ہیں اور جتنی بدکاریاں اُنہوں نے دنیا میں آج تک کی ہیں اُن تمام بدمعاشوں کی ساری بدیوں اور گناہوں جتنے گناہ اُس کے ایک دفعہ کے پڑھنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔گویا ایک دفعہ دعائے گنج العرش پڑھ لی اور چھٹی ہوگئی۔نہ نماز رہی نہ روزہ رہا، نہ حج رہا نہ زکوۃ رہی ، نہ قرآن کریم کے اور احکام پر عمل کرنے کی ضرورت رہی۔یہیں تک نہیں بلکہ اس کے اور بھی بڑے بڑے افسانے مشہور ہیں۔کہتے ہیں ایک بہت بڑا چور تھا جس نے ملک بھر میں فتور مچا رکھا تھا اُس نے ہزاروں لوگوں کو قتل بھی کیا تھا مگر وہ پکڑا نہیں جاتا تھا۔آخر ایک دفعہ سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور عدالت