انوارالعلوم (جلد 21) — Page 293
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۹۳ خدام الاحمدیہ کا نائب صدرصد را مجمن احمدیہ کا اور ہر مجلس کا۔کا عہد دُہرائے اور حضور کے ساتھ خدام نے ایک ایک لفظ کر کے بآواز بلند اپنے رب سے تجدید عہد کی۔اس کے بعد حضور دیر تک مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خدام سے مختلف امور پوچھتے رہے اور آخر میں تلقین ،تبلیغ کے سلسلے میں فرمایا۔تبلیغ تین طریقوں سے ہو سکتی ہے۔دوستی سے ، خدمت سے اور مظلومی سے۔لیکن مظلومی بہادری والی ہو جس سے یہ ظاہر ہو کہ تم محض اپنے ربّ کے لیے کچھ برداشت کر رہے ہو۔اس کے بعد حضور نے کچھ دیر تک خدام کو فوجی زندگی کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔پھر خدام الاحمدیہ کی کمی اشاعت کا شکوہ فرمایا اور کہا کہ اب تک آپ کی صدر انجمن احمد یہ سے بھی شاخیں بڑھ جانی چاہئیں تھی لیکن آپ ابھی تک ۱۲۰ سے آگے نہیں بڑھ سکے۔کچھ دیر تک فوجی زندگی سے ملک و قوم اور وطن کو نفع پہنچنے کی اہمیت بیان کرنے کے بعد کی فرمایا جو لوگ کام تو خود نہیں کرتے اور الزام اللہ میاں کے سر پر تھوپ دینے کے عادی ہوتے ہیں کہ صاحب ! اللہ میاں کو ایسا ہی منظور تھا۔وہ خدا کی ہتک کرتے ہیں۔خدا منصف اور عادل ہے اور کبھی کسی کی محنت اور نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا لہذا خدا کے قانون کی تاویل تمہارے ذہنوں میں کبھی نہ آئے بلکہ اس کے خلاف جہاد کرو۔بزدل لوگ یہ کہہ کر خدا کی توہین کرتے ہیں۔خدا کبھی اچھے کاموں کا بُرا نتیجہ نہیں نکالا کرتا۔بزدلی کی اس روح کو کچلو کیونکہ یہ روح قوموں کو خراب کر دیا کرتی ہے اور اس سے اخلاق بگڑ جایا کرتے ہیں۔آخر میں حضور نے تعلیمی اداروں کے متعلق اور اساتذہ کو طلبہ کی اخلاقی نگرانی کو کڑا کر دینے کی تلقین فرمائی اور کہا ابھی تک ہمارے تعلیمی اداروں کا نظام خاطر خواہ نہیں ہوا۔ہائی سکول کی حالت نسبتاً بہتر ہے لیکن آپ کا معیار تو بہت بلند ہونا چاہیے۔ہمارے ادارے تو ابھی ابتدائی ہیں ان کے بچوں کے کردار تو نہایت ہی اعلیٰ ہونے چاہئیں لہذا میں بتائے دیتا ہوں کہ اگر آئندہ مجھ تک ان اداروں کے متعلق کوئی بداخلاقی وغیرہ کی کوئی رپورٹ آئی تو میں طلبہ سے زیادہ اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔حضور نے اپنی تقریر ہی میں اجتماع کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور تقریر کے آخر پر ایک لمبی 66 دعافرمائی۔(الفضل ۴ / نومبر ۱۹۴۹ء)