انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 191

انوار العلوم جلد ۲۱ 191 قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر میں سے کسی شہر نے بھی ایسا نمونہ نہیں دکھایا جو جہلم کی جماعت نے دکھایا ہے۔اگر یہ سچ نہیں تو وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جنہوں نے اپنی اپنی جماعت کا پورا ۶۴ واں حصہ فرقان فورس میں بھیجا ہے۔اس کے مقابلہ میں جہلم کے امیر کی طرف سے جب کسی کو محاذ پر جانے کے لئے کہا گیا تو تو اُس نے انکار نہیں کیا بلکہ اُس نے کہا اگر مجھے ملازمت سے استعفیٰ بھی دینا پڑے تو میں ضرور جاؤں گا۔چھٹیاں دوسری جگہوں پر بھی مل سکتی ہیں پھر جو کام جہلم کی جماعت کر سکتی ہے وہ دوسری جماعتیں کیوں نہیں کر سکتیں۔آخر وہ کون سا وقت آئے گا جب تم فنونِ جنگ سیکھو گے اور دشمن کے سامنے اپنی چھاتی تان کر کھڑے ہو جاؤ گے۔اگر تم اب ایسا نہیں کرتے تو وقت آنے پر سوائے ناکامی اور حسرت سے تمہیں اور کیا ملے گا۔لوگ اس بات پر چڑتے ہیں کہ ایک طرف تو ہم پاکستان سے وفاداری کا اعلان کرتے ہیں اور دوسری طرف ہماری یہ مذہبی تعلیم ہے کہ احمدی خواہ کسی ملک میں ہوں وہ اپنے اپنے ملک کے وفادار ر ہیں۔حالانکہ یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ہم یہ کہتے ہیں کہ جو احمدی انڈین یونین میں رہتے ہیں وہ انڈین یونین کے وفادار رہیں گے۔یہی قائد اعظم نے کہا تھا اور یہی گاندھی جی نے کہا تھا اور جو اس کے خلاف لکھتا ہے ج وہ قائد اعظم پر الزام لگاتا ہے۔ہماری تو تعلیم ہی یہی ہے کہ ہمارے احمدی جس ملک میں بھی رہیں گے وہ اُس کے وفادار رہیں گے۔ہاں زائد فرق یہ ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں اسلام کی ترقی کے ذرائع موجود ہیں اور جب تک ہم اس اصول پر عمل نہ کریں کہ جس ملک میں ہم رہیں اُس کے وفادار بن کر رہیں ہم اُن ذرائع سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے“۔اس موقع پر حضور نے فرمایا:۔ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ انشورنس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس کے متعلق میں اس وقت صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اب تک انشورنس کا جو طریق رائج ہے وہ اسلام کے خلاف ہے جب کوئی ایسا طریق نکل آئے گا جو اسلام کی اجازت میں آ جاتا ہو تو میں اُس کو جائز قرار دے دوں گا۔اسی طرح میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ربوہ میں مکان بنانے کے لئے کچھ شرائط ہوں گی