انوارالعلوم (جلد 21) — Page 190
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹۰ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ عورت بھی انہی لوگوں میں سے تھی جن کو تم کمی کہتے ہو۔جب یہ خط مجھے پہنچا میں نے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا جب میں وسط خط میں پہنچا تو میرے دل میں اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے خط بند کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے خدا ! میرا بھی حق ہے کہ میں تیری راہ میں قربانیاں کروں۔اگر تیری راہ میں کسی جان کی ضرورت ہے تو اے خدا! میری تجھ سے درخواست ہے کہ تو میرے کسی بیٹے کی جان لے لیـــجــــو مگر اس بڑھیاماں کا بچہ صحیح سلامت واپس آ جائے۔اسی طرح لائکپور کی ایک عورت کا بھی ایسا ہی واقعہ ہے۔لائکپور میں بھی ایک عورت تھی۔اور وہ بھی انہی لوگوں میں سے تھی جن کو تم کمی کہتے ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ تم سے زیادہ چی عزت والی تھی۔وہ عورت ترکھان تھی۔جب ہمارا مبلغ وہاں گیا اور اُس نے کہا اس وقت ملک کی حفاظت اور اُس کی عزت کا سوال ہے پاکستان کے احمدیوں کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے آگے بڑھیں اور اپنی جانیں پیش کریں تو اُس عورت نے کہا کیا واقعہ میں دین کو جان کی ضرورت ہے؟ ہمارے مبلغ نے کہا ہاں اس وقت دین اور ملک کی حفاظت کے لئے جان کی جی قربانی کی ضرورت ہے۔اُس عورت کے دولڑ کے اور دو پوتے تھے اُس نے کہا اگر یہ بات کی درست ہے تو میں اپنے چاروں بچوں کو پیش کرتی ہوں تم بیشک ان چاروں کو لے جاؤ۔پھر اُس نے اپنے لڑکوں کو اور پوتوں کو بلا کر کہا کہ دین اور ملک کی حفاظت کے لئے تمہاری جانوں کی کی ضرورت ہے۔احمدی فوج کی طرف سے تمہیں بلایا جا رہا ہے تم چاروں چلے جاؤ اور یاد رکھو میں اُس وقت تک گھر میں نہیں گھوں گی جب تک تم چاروں یہاں سے چلے نہیں جاتے۔ہمارے مبلغ نے کہا ہمیں تمہارے دونوں لڑکوں اور پوتوں میں سے صرف ایک چاہیے لیکن وہ عورت نہ مانی۔آخر بڑے اصرار کے بعد اُس نے کہا پھر دو کو تو ضرور لے جاؤ۔یہ وہ چیزیں ہیں جن سے قو میں بڑھتی ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں وہ شرمندہ نہیں ہوتیں۔جہلم کی جماعت ایسی ہے جس نے باقی جماعت کے سامنے ایک نمونہ پیش کر دیا ہے اور ایسی باقاعدگی سے اس کام میں حصہ لیا ہے کہ کسی اور شہر کے احمدیوں نے ایسا نمونہ نہیں دکھایا۔کراچی ، سیالکوٹ، لاہور، راولپنڈی، ملتان اور لائکپور جیسے بڑے بڑے شہر موجود ہیں لیکن اُن