انوارالعلوم (جلد 21) — Page 174
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۷۴ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی حَاشَاوَلا کسی خاص مقام سے کوئی تعلق نہیں جہاں خدا چاہے ہم جانے کے لئے تیار ہیں اور وہی جگہ ہمارے لئے بابرکت ہوگی۔بہر حال یہ جلسہ ایک نئے مرکز کے قیام کی غرض سے ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے جو نظام ہمیں بخشا ہے وہ کتنا ز بر دست ہے۔دنیا کی کونسی قوم ہے جسے اتنی شدید پریشانی ہوئی ہو جتنی ہمیں ہوئی اور پھر اُس نے اکٹھے ہو کر اپنے لئے نئے مرکز کی تعمیر کی کوشش کی ہو۔یہ صرف احمدی ہی ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے لئے ایک نئی جگہ بنا ئیں اور نئے سرے سے اپنی ترقی کیلئے کوشش کریں۔میں اپنے مضمون کی طرف آنے سے پہلے چند ضمنی مضامین کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا تی ہوں۔میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تمام قسم کی ترقیات اچھے لٹریچر کے ساتھ وابستہ ہیں۔انگریزی ترجمہ قرآن کریم جو حال ہی میں شائع ہوا ہے اس کے متعلق منتظمین نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ جماعت کے دوستوں نے اس کی خریداری کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔بے شک اس کی قیمت زیادہ ہے لیکن انگریزی ممالک میں تبلیغ کا اس سے زیادہ اچھا کوئی ذریعہ نہیں۔یہ ترجمہ جہاں اور جس ملک میں پہنچا ہے اس نے تبلیغ کے لئے ایک بڑا راستہ کھول دیا ہے۔مثلاً شام کے اخباروں میں اس کے متعلق بڑے زور دار الفاظ میں مضامین نکلے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مستشرق جو اپنے آپ کو فرعون کی حیثیت دیتے ہیں اُن کے اندر بھی اس ترجمہ کی وجہ سے کھلبلی مچ گئی ہے۔تین بڑے مستشرقین نے اس پر ریویو لکھے ہیں اور اتنے بغض کا اظہار کیا ہے کہ اس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ انہوں نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ یہ ترجمہ عیسائیت کیلئے ایک بہت بڑی زد ہو گا۔اگر یہ معمولی چیز ہوتی تو اِن مستشرقین کو کیا ضرورت تھی کی کہ اتنے سخت مضامین لکھتے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ انگریزی ترجمہ قرآن کریم کی اشاعت کی طرف توجہ کریں اور یورپین ممالک میں اسے کثرت سے شائع کرنے میں امداد دیں۔اسی طرح مجھے بتایا گیا ہے کہ تفسیر کبیر کی نئی جلدوں کی اشاعت کی طرف بھی جماعت نے بہت کم توجہ کی ہے حالانکہ اُردو زبان میں عام لوگ بھی قرآنی مطالب کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔تفسیر کبیر کی جو پہلی جلد چھپی تھی اس کی پانچ روپے فی جلد قیمت رکھی گئی تھی۔مگر سٹاک ختم