انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 131

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳۱ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر کے حکم کی تعمیل میں تمہیں یہاں چھوڑے جا رہا ہوں تو ہاجرہ فوراً پیچھے ہٹ گئیں اور اُنہوں نے کہا - إِذًا لا يُضَيعُنَا ، تب خدا تعالیٰ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔بے شک جہاں جانا ہے چلے جاؤ۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے اور وہ بے وطن اور مسکین ہاجرہ اسماعیل کی ماں پھر اپنے خاوند کا منہ نہیں دیکھ سکی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہوئے تو اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے لیکن اُس وقت حضرت ہاجر گ فوت ہو چکی تھیں۔تب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُنہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جس کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں اور جس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام دوبارہ آئے اُس وقت جرہم قبیلہ کے لوگ وہاں بس چکے تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ اُنہوں نے اپنی بیٹی بھی بیاہ دی تھی۔اب وہ آبادی تھی چند خیمے یا چند جھونپڑیاں تھیں جن میں لوگ رہتے تھے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جھونپڑیاں تھیں کیونکہ روایات میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تو حضرت اسماعیل اُس وقت کی گھر پر نہیں تھے۔آپ گھر میں یہ پیغام دے گئے کہ جب اسماعیل آئے تو اُس سے کہنا کہ تمہاری چھ چوکھٹ اچھی نہیں اُسے بدل دو۔۱۳ مطلب یہ تھا کہ تمہاری بیوی بد اخلاق ہے اس کی بجائے کوئی اچھے اخلاق والی بیوی کرو۔حضرت ابراہیمؑ اس کے بعد بھی کئی دفعہ آئے۔ایک اُس وقت آئے جب اُنہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی تھی۔اور ایک اُس وقت آئے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے وہ اکثر شکار کے لئے دُور پہاڑوں میں نکل جایا کرتے تھے اور پھر شکار کا گوشت سکھا کر رکھ لیتے اور استعمال کرتے۔اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام شکار کی تلاش میں باہر گئے ہوئے تھے۔آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک عورت بولی۔بابا تو کون ہے؟ آپ نے فرمایا۔بی بی! میں اسماعیل سے ملنے کے لئے آیا ہوں۔اُس نے کہا۔بابا جاؤ، اسماعیل تو گھر پر نہیں۔اُنہوں نے کہا۔اچھا، میں جاتا تو ہوں مگر جب اسماعیل واپس آئے تو اُس سے کہہ دینا کہ تمہارے دروازہ کی چوکھٹ اچھی نہیں اُسے بدل دو۔حضرت اسماعیل علیہ السلام واپس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ پیچھے کے واقعات بتاؤ چونکہ اُس وقت