انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 126

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۶ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر معبد تھا۔اور جو لوگ یہ عقیدہ نہیں رکھتے وہ اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جو معبد بننے والا ہے اس کے نزدیک میں نے اپنی اولا د کو لا کر رکھ دیا ہے۔تیسرے معنی اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ بیت اللہ در حقیقت تقویٰ کا مقام ہے۔پس عِندَ بَيْتِكَ الْمُحرم کے یہ معنی ہیں کہ میں ایک ایسے مقام کے پاس انہیں چھوڑ رہا ہوں جہاں شیطانی خیالات کا دخل نہیں ہو گا یعنی دین کی خدمت کے لئے میں انہیں یہاں چھوڑ رہا ہوں دینا لِيُقِيمُوا الصَّلوة - اے میرے رب ! میں ان کو یہاں چھوڑ تو رہا ہوں مگر اس لئے نہیں کہ یہ بڑی بڑی کمائیاں کریں یا بڑے بڑے جتھے بنا ئیں اور فتوحات حاصل کریں بلکہ دبنا ليُقِيمُوا الصَّلوةَ اے میرے ربّ! میں اس لئے ان کو یہاں چھوڑ رہا ہوں تا کہ وہ تیری عبادت کو اس جنگل میں قائم کریں۔فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي اليهم ۱ پس اے میرے رب ! تو لوگوں کے دلوں میں خود ان کی محبت ڈال اور اُنہیں اِس طرف جھکا دے۔چونکہ یہ خالص تیری عبادت کے لئے وقف ہوں گے اور تیرے دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں گے اس لئے جی اے میرے رب ! تو لوگوں کے ایک طبقہ کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور ان کے دلوں میں ان کی عقیدت اور احترام پیدا کر دے تا کہ وہ باہر کی دنیا میں رہ کر کمائیں اور اپنی کمائی کا ایک حصہ ان کے کھانے کے لئے بھجوا دیا کریں۔اور اے میرے رب ! جب میں اپنی اولا د کو دین کی خدمت کے لئے یہاں چھوڑے جا رہا ہوں تو میں یہ نہیں چاہتا کہ مسجد کے ملانوں کی طرح یہ جمعرات کی روٹیوں کے محتاج ہوں۔میں اپنی اولاد کو ایک جنگل میں چھوڑ رہا ہوں ، کی میں اپنے بچے کو جو جوان ہے اور اُس عمر سے گزر گیا ہے جس میں بچے بالعموم مر جایا کرتے ہیں ایک ایسی جگہ چھوڑ رہا ہوں جس میں اس کی موت یقینی ہے انسان ہونے کے لحاظ سے میں علم غیب نہیں رکھتا اور میں نہیں جانتا کہ گل تو ان سے کیا سلوک کرے گا۔میرا اندازہ انسانی علم کے لحاظ سے یہی ہے کہ میری بیوی اور بچہ یہاں مر جائیں گے۔میں نے انسان ہوتے ہوئے قربانی کے ہر نقطہ نگاہ میں سے جو سب سے بڑا نقطہ نگاہ تھا اُس کو پورا کر دیا ہے اب کی میں تیرا بھی امتحان لینا چاہتا ہوں۔میں نے بندہ ہو کر وہ کام کیا ہے جو قربانی اور ایثار کے لحاظ سے اپنے انتہائی کمال کو پہنچا ہوا ہے اب میں تیری خدائی کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔