انوارالعلوم (جلد 21) — Page 121
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۱ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر اور اسلام کے لئے تم نے جو قربانی پیش کی ہے اُس پر اتنے خوش ہوئے ہیں کہ تم جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مانگو ہم تمہاری ہر خواہش کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس پر عبد اللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی ! جنت کے فلاں مقام پر مجھے رکھا جائے ، اس پر عبداللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی ! مجھے ایسی ایسی حوریں دے، عبداللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی ! مجھے جنت میں غلمان خدمت کے لئے دے، عبد اللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی! مجھے ایسے ایسے باغات مل جائیں بلکہ عبداللہ نے اگر کہا تو یہ کہا کہ اے میرے رب ! اگر تو مجھے کچھ دینا ہی چاہتا ہے تو میری خواہش یہ ہے کہ تو مجھے پھر زندہ کر دے تا کہ میں پھر تیرے دین کی خدمت کرتا ہوا مارا جاؤں لے اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ شہید ہونے والا اپنی مرضی سے مرنا نہیں چاہتا۔وہ خطرے کے مواقع پر اپنی جان ضرور پیش کرتا ہے مگر اُس کا دل چاہتا ہے کہ میں زندہ رہ کر ان تمام مشکلات کا مقابلہ کروں جو اسلام یا دین حققہ کو مخالفوں کی طرف سے پیش آنے والی ہیں۔پس میں نے جو اعتراض خود کشی کرنے والوں یا جھوٹے جان دینے والوں پر کیا ہے وہ شہداء پر نہیں کی پڑتا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دین حقہ کے لئے ایسے قربانی کرنے والے پیدا کرے جو اپنی جان کو مار کر اس دنیا کی جد و جہد سے بھا گنا نہیں چاہتے بلکہ دنیا میں زندہ رہ کر دنیا کی کشمکشوں میں سے گذر کر ، دنیا کی مصیبتوں کو جھیل کر، دنیا کی تکالیف کو برداشت کر کے اپنی مردانگی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کی بندہ دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے ڈرا نہیں کرتا۔یہی وہ حقیقی قربانی ہے جو شاندار ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا نام لے کر سینہ میں خنجر مار لینا کوئی قربانی نہیں وہ بزدلی ہے ا ہے، وہ کمزوری ہے ، وہ دون ہمتی ہے جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ایک قربانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے ورنہ وہ خوب جانتا ہے کہ میں بُزدل ہوں۔میں اس لئے کر رہا ہوں کہ دنیا میں رہ کر میں مصیبتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ سمجھتا ہے کہ چند مصیبتیں آنے کے بعد ہی میرا ایمان کمزور ہو جائے گا اس لئے وہ اپنی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اس قربانی کی بنیاد ڈالے جو زندہ رہ کر اور دنیا کشمکشوں کا مقابلہ کر کے