انوارالعلوم (جلد 21) — Page 111
انوار العلوم جلد ۲۱ 111 اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامہ ری کامیابی ہے آپ زندہ نہیں۔غرض خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور موت تمہارے ہاتھوں میں ہے اگر تم چاہو تو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں زندہ رہ سکتے ہیں اور اگر تم غفلت اور ستی سے کام لو گے تو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا کی کے لئے مر جائیں گے۔خدا تعالیٰ ظاہری طور پر کبھی مر نہیں سکتا مگر روحانی طور پر تم اُسے زندہ بھی رکھ سکتے ہو اور مار بھی سکتے ہو۔جنگ بدر میں جب لڑائی خطرناک صورت اختیار کر گئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی گھبراہٹ سے دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا! اگر یہ جماعت جو چھوٹی سی ہے ہلاک ہو گئی تو کی لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اَبَدًا! تیری عبادت کرنے والا کوئی شخص دنیا میں نہیں رہے گا۔اس دعا کی برکت سے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے والی ہو اُس کو خدا تعالیٰ کبھی مرنے نہیں دیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی مطلب تھا کہ اے خدا! تیری زندگی اس چھوٹی سی جماعت کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر یہ جماعت مٹ گئی تو تیرا ذکر بھی اس دنیا سے مٹ جائے گا۔اے خدا! تو اس جماعت کو مرنے نہ دے اور اسے ہلاکت سے بچالے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ خدا تعالیٰ جی و قیوم ہے۔ظاہری طور پر اُس پر موت وارد نہیں ہوتی لیکن روحانی طور پر وہ اس دنیا میں جس شخص کے ذریعہ زندہ ہو اُس کو بھی وہ زندہ رکھتا ہے۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ شعر کہا ہے کہ سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے میرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار یعنی اے میرے دشمن ! ذرا ہوش کر کے مجھ پر وار کیجیو کیونکہ مجھ میں خدا تعالیٰ بیٹھا ہوا ہے۔اور جس شخص کے اندر خدا تعالیٰ بیٹھا ہو اُس پر کوئی شخص حملہ کر کے محفوظ نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ دراصل خدا تعالیٰ پر حملہ کرتا ہے اور اُس کی ضرب خدا تعالیٰ پر پڑتی ہے۔پس جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کو اپنے اندر بٹھا لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اُسے بھی تباہ نہیں ہونے دیتا کیونکہ اُس کی موت سے خدا تعالیٰ کی موت وابستہ ہوتی ہے۔