انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xiv

انوار العلوم جلد ۲۱ 66 ثابت ہو۔“ تعارف کت اس کے بعد حضور نے سجدہ کیا اور حضور کے ساتھ ہزاروں مخلصین بھی سر بسجو د ہو گئے اور ربُّ العرش سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے متعلق اشکوں کی جھڑی اور آہ و بکا کے شور کے ساتھ دعائیں کی گئیں۔(۶) آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی قربانیوں میں حصہ لیں گی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہر موقع جلسہ سالا نه ر بو ۱۶ ۱۷ پریل ۱۹۴۹ ء کو خواتین سے خطاب فرمایا۔پاکستان میں جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ میں یہ پہلا جلسہ سالانہ تھا جس کی وجہ سے بہت زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور عارضی انتظامات کئے گئے تھے۔اس لئے اس اولوالعزم خلیفہ نے جماعت میں جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لئے حج کی مثال دی کہ کس طرح لوگ وہاں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں لیکن ان کو محسوس نہیں کرتے کیونکہ روح کی سہولتیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اُٹھانے سے ہی میسر آتی ہیں اور جو لوگ انبیاء پر ابتداء میں ایمان لاتے ہیں ، مشکلات میں سے گزرتے ہیں اور قربانیاں کرتے ہیں وہی بڑے سمجھے جاتے ہیں۔ہر مسلمان جانتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف یہ وہ لوگ تھے جو بڑے سمجھے جاتے تھے۔مگران کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو آرام زیادہ میسر آتا تھا بلکہ ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ دین کی خاطر انہوں نے دوسروں سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی تھیں۔اس لئے اب آپ لوگوں کو تو صرف ایک سال ان تکالیف کا تجربہ ہو رہا ہے۔اگلے سال شاید یہ نعمت آپ لوگوں کو میسر نہ آئے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں مرکز قائم ہو گیا تو اگلے سال بہت سی سہولتیں میسر آ جائیں گی۔اس کے بعد آپ نے خواتین کو