انوارالعلوم (جلد 21) — Page 76
انوار العلوم جلد ۲۱ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر طرح پڑھتے تھے۔صرف اتنا فرق تھا کہ یہ اهدنا کی دال چھوڑ دیتے تھے اور غيْرِ الْمَغْضُوبِ عَليہم میں علیہم چھوڑ جاتے تھے۔اب یہ ٹھیک پڑھنے لگ گئے تھے لیکن آج نئی جگہ ہونے کی وجہ سے گھبرا گئے اور اس گھبراہٹ کی وجہ سے ایک آیت کی آیت ہی چھوڑ گئے۔ویسے یہ ساری نماز عربی میں پڑھتے ہیں۔سوائے اس کے کہ کہیں کہیں غلطی کر جاتے ہیں۔میرا منشاء ہے کہ ہم انہیں عملی طور پر اسلام سکھائیں ، دینی مسائل سکھائیں اور قرآن کریم پڑھا کر اسلام کا مبلغ بنائیں۔ان کے اسلام لانے کے بعد جرمن لوگوں میں اسلام کی طرف اور ان زیادہ رغبت پیدا ہو گئی ہے اور کچھ اور لوگ بھی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔مسٹر کنزے برلن کے رہنے والے ہیں اور دوسرے لوگ ہمبرگ کے رہنے والے ہیں۔کچھ اور نو جوانوں میں بھی اسلام کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے۔اُن لوگوں میں جو اسلام میں داخل ہوئے ہیں ایک دوست عبد اللہ کو بنے بھی ہیں۔وہ بھی پہلے قید رہے ہیں وہ جزیرہ سائپرس میں قید تھے وہاں اُنہیں ایک مسلمان مل گیا وہ صو بیدار تھا اور شاید جیل خانہ پر اُس کی ڈیوٹی تھی۔اُس صو بیدار سے اِن کی گفتگو ہوتی رہی اور آخر کار وہ اسلام کی طرف مائل ہو گئے۔وہ صو بیدار صاحب اِن سے پہلے ہی وہاں سے کہیں دوسری جگہ تبدیل ہو کر چلے گئے انہوں نے وہاں سے خط لکھا مجھے بھی اور لندن مشن کے مبلغ کو بھی کہ میرا ایک مسلمان دوست تھا جس سے اسلام کے متعلق میری گفتگو ہوتی رہتی تھی اب وہ میرے پاس نہیں ہے۔مجھے اسلام سے رغبت ہو گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے اُس دوست کا پتہ مل جائے اور میں اسلام کے نقطہ نگاہ کے لحاظ سے اُس پر غور کروں۔ہم نے انہیں اُس صو بیدار کا پتہ بھجوایا۔وہ جرمن دوست مسٹر کنزے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ان کا پیشہ ہی جرنلزم ہے وہ ایک رسالے کے ایڈیٹر ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور اُن کی بیوی بھی کئی کتابوں کی مصنف ہے۔وہ چھ سات زبانیں جانتے ہیں اور اُن کی بیوی بھی کئی زبانیں جانتی ہے۔ہم نے اُن سے خط و کتابت شروع کی۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔ان کے بعد اور بھی کچھ دوست مسلمان ہوئے۔اب جرمنی میں دو جماعتیں قائم ہیں۔برلن تو مسٹر کنزے کے یہاں آجانے کی وجہ سے خالی ہو گیا ہے لیکن ہمبرگ میں گیارہ بارہ