انوارالعلوم (جلد 21) — Page 40
انوار العلوم جلد ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء اور غفلت کی علامت ہے کہ ہم اتنی دیر تک کوئی نیا مرکز قائم نہیں کر سکے۔مجھے ایک شخص کی بات پر جو ایک قسم کی جہالت تھی حیرت آتی ہے۔مجھے ایک احمدی دوست نے بتایا کہ اس کے پاس ایک زمیندار آیا اور اس نے باتیں کرنی شروع کر دیں۔گفتگو کے دوران میں اس نے کہا تقسیم سے پہلے احمد یہ جماعت کی عظمت کا مجھ پر بہت اثر تھا اور میں سمجھتا تھا کہ باقی مسلمان تو یونہی ہیں اصل کام کرنے والی یہی جماعت ہے مگر تقسیم کے بعد ان کا مجھ پر وہ اثر نہیں رہا۔اس احمدی دوست نے بتایا کہ میں نے اُس سے سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک سال ہو گیا ہے مگر یہ ایک جگہ پر ابھی بیٹھے بھی نہیں انہیں چاہئے تھا کہ فوراً اپنا کام شروع کر دیتے اور اپنے لئے ایک مرکز بنا لیتے۔میں نے کہا گورنمنٹ کے ساتھ خط و کتابت ہو رہی ہے اس لئے دیر ہوگئی ہے۔اس نے کہا یہی تو مجھے اعتراض ہے اگر ان لوگوں میں جنون ہوتا تو وہ زبردستی اپنا مرکز قائم کر لیتے خواہ انہیں گولیاں چلا کر مار دیا جاتا۔چاہے یہ مکمل عقل کی بات نہیں مگر اس حد تک دانائی کی بات ہے کہ ہمیں چاہئے تھا کہ فوراً مرکز قائم کر کے اپنا کام شروع کر دیتے۔اگر ہماری جماعت اس بارہ میں کوتاہی اور غفلت سے کام لیتی ہے اور مرکز کے بنانے میں دیر کرتی ہے تو وہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑا مارتی ہے اور اگر وہ مرکز کی حقیقت کو نہیں سمجھتی تو وہ روحانی بینائی سے محروم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم وہاں مکان بنائیں گے اور پھر قادیان کے واپس ملنے پر وہاں چلے جائیں گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمارا روپیہ ضائع ہو گیا مگر یہ بالکل غلط اعتراض ہے۔اس کا جواب میں نے پہلے بھی کئی بار دیا ہے۔قادیان کے ملنے میں آخر کچھ وقت تو لگے گا جب ہم سفر کے لئے جاتے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ پانچ دس گھنٹے کا ہوتا ہے ہم اس کے لئے فرسٹ یا سکینڈ کلاس کا ٹکٹ لے لیتے ہیں یا فرسٹ اور سیکنڈ کلاس کے ٹکٹ لینے کی توفیق نہیں ہوتی تو ہم تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لے لیتے ہیں اور ساتھ ہی ایسی چیزیں رکھ لیتے ہیں جو رستہ میں کام آتی ہیں تا وہ چند گھنٹوں کا سفر آرام سے کٹ جائے۔مثلاً ہم کھانے پینے کی چیز میں ساتھ رکھ لیتے ہیں، پانی کی صراحی ساتھ رکھ لیتے ہیں یا کوئی اور چیز ساتھ لے لیتے ہیں۔ہم دو چار گھنٹہ کے سفر کے لئے تو ایسا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ مرکز جہاں